کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ عصر کے بعد نمازِ جنازہ ادا کرنا کیسا ہے جائز ہے یا ناجائز ؟ اور دیگر مکروہ اوقات کا کیا حکم ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔
نمازِ عصر کے بعد نمازِ جنازہ ادا کرنا بلا کراہت درست ہے ، البتہ عین غروبِ آفتاب، طلوعِ آفتاب اور زوال کے وقت نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا کوشش یہ ہونی چاہیۓ کہ مکروہ وقت داخل ہونے سے پہلے یا مکروہ اوقات گزرنے کے بعد نمازِجنازہ ادا کر لیا جائے ،جیسا کہ درجِ ذیل عبارات سے واضح ہے
في التاتارخانیة: ويكرہ صلاة الجنازة عند طلوع الشمس واستوائها وغروبها، و ان صلوها لم تكن عليهم اعادتها، ولو أدى بعد طلوع الفجر أو بعد العصر لا یکره اھ (۲/۱۳۵)۔
وفي رد المحتار: وسبب وجوبها الميت المسلم كما في الخلاصة ووقتها وقت حضوره؛ ولذا قدمت على سنة المغرب كما في الخزانة. اهـ. وفي البحر ويفسدها ما أفسد الصلاة إلا المحاذاة كما في البدائع وتكره في الأوقات المكروهة اھ(2/ 207)۔
وفى خلاصة الفتاویٰ: اما صلاة الجنازة عندطلوع والغروب والزوال فمكروه، فان صلوها لم يكن عليهم الإعادة وأما بعد غروب الشمس بدؤا بالمغرب ثم بصلاة الجنازة ثم بسنة المغرب کذا فی شمس الائمة الحلوائی رحمه اللہ اھ (۱/ ۲۲۳ )۔