سارے شہر کی اجتماعی جنازہ گاہ، عیدگاہ مدرسہ ہے، عید کے موقع پر اعلان کیا گیا کہ اس جنازہ گاہ میں صرف مدرسہ کا عملہ جنازہ پڑھائےگا کسی اور سے پڑھوانے کے لۓ کسی اور جگہ تشریف لے جائیں، ایسا کہنا اور کرنا کیسا ہے؟ جبکہ اکثر لوگ ان سے جنازہ پڑھوانے کو تیار نہیں ہیں، خود مردے کے اہلِ قرابت رشتہ دار وغیرہ کے جنازہ پڑھانے پر بھی مسئلہ بن جاتا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے؟
نمازِجنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ مستحق محلہ کا امام ہے، بشرطیکہ میت کے اعزہ میں سے کوئی شخص اس سے افضل نہ ہو، ورنہ میت کی اعزہ ’’جن کو ولایت حاصل ہے‘‘ امامت کے مستحق ہیں، جبکہ سوال میں مذکور مدرسہ والوں کے اعلان اور لوگوں کے ان سے جنازہ نہ پڑھوانے کی کوئی وجہ نہیں لکھی گئی، اگر اس کی تفصیل لکھ دی جائے، تو اس پر مکرّر غور کیا جاسکتا ہے۔
وفی الدر المختار: (ثم إمام الحي) فيه إيهام، وذلك أن تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي، وإلا فالولي أولى اھ(2/ 220)۔