کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے ہیں، جو کہتے ہیں کہ بالغ اور نا بالغ کی نمازِ جنازہ میں کوئی فرق نہیں، جو دعا بالغ کے لۓ ہے وہ نابالغ کے لۓ بھی ہے اور اللہم اجعلہ لنا، اجعلھا لنا یہ الفاظ احادیث میں کہیں مذکور نہیں ہے، اگر کہیں ہو تو ثابت کر کے دکھاؤ۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نمازِ جنازہ میں فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، یہ بھی ایک نماز ہے جس طرح دوسری نمازوں میں فاتحہ ضروری ہے، اس میں بھی ضروری ہے، براہِ کرم ان مسائل کا مفصل ومدلل جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
بچے کی نمازِ جنازہ میں اللہم اجعلہ لنا الخ کے الفاظ سے دعا کرنا احادیثِ صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے ، اس سے انکار سراسر جہالت اور احادیث سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔
اسی طرح نمازِ جنازہ میں سورۃِ فاتحہ کو ایسا لازم و ضروری قرار دینا کہ اس کے بغیر سرے سے نماز ہی درست نہیں ہوتی، احادیث اور سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں قطعاً غلط ہے، البتہ اتنی بات ہے کہ اگر کسی نے بہ نیتِ دعا ثناء وفاتحہ پڑھ لی تو تمام ائمۂ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک نمازِ جنازہ درست کہلائے گی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ جولوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ مسلما نوں میں افتراق وانتشار پھیلانے کے مرتکب ہونے کی وجہ سے بہت سخت گنہگار ہورہے ہیں، اُن پر لازم ہے کہ اپنی اس قبیح حرکت سے مکمل احتراز کرکے مؤاخذۂ آخرت سے سبکدوشی حاصل کریں۔
فی السنن الكبرى للبيهقي: عن أبي هريرة أنه كان يصلي على المنفوس الذي لم يعمل خطيئة قط، ويقول: " اللهم اجعله لنا سلفا وفرطا وذخرا" اھ(4/ 15)۔
وفي فتح الباري لابن حجر: وصله عبد الوهاب بن عطاء في كتاب الجنائز له عن سعيد بن أبي عروبة أنه سئل عن الصلاة على الصبي فأخبرهم عن قتادة عن الحسن أنه كان يكبر ثم يقرأ فاتحة الكتاب ثم يقول اللهم اجعله لنا سلفا وفرطا وأجرا اھ (3/ 203)۔كذافى اعلاء السنن ( ۸/۲۵۳)۔
وفي موطأ مالك: عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبيه؛ أنه سأل أبا هريرة، كيف يصلى على الجنازة؟فقال أبو هريرة: أنا، لعمر الله، أخبرك. أتبعها من أهلها. فإذا وضعت كبرت. وحمدت الله اھ (2/ 319)۔
وفی اعلاء السنن: تحت قوله حمدت الله يدل على ان المقصود هوالثناء سواء كان بالحمد للہ أو بغیره وبه نقول وفى البحر وفي المحيط والتنجيس (لو قرأ الفاتحة فيها بنية الدعاء فلابأس به) وإن قرأهابنية القراءة لا يجوز لانها محل الدعاء دون القراءة اھ(۲/ ۱۹۸ )۔
وفي منحة الخالق: وفي النهر قال في المبسوط اختلف المشائخ في الثناء قال بعضهم بحمد الله كما في ظاهرالرواية وقال بعضهم يقول سبحانك اللهم وبحمدك كما فی سائر الصلوات اھ(۸/ ۲۱ )۔