کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبرستان پر ستون لگا کر چھت ڈا ل کر اس کے اوپر مسجد بنانا کیسا ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں ،شکریہ ۔
نوٹ : سائل نے بتایا ہے کہ قبرستان کے لئے مذکور زمین کو وقف کر دیا گیا تھا ،اب محدود جگہ پر چھت ڈال دی ہے ،اور ضرورت کی بنا پر اس کے اوپر مسجد بنانا چاہتے ہیں ۔
واضح ہو کہ جو زمین کسی مصرف کےلئے وقف کر دی گئی ہو ،پھر وہ وقف تام ہو چکا ہو ، تو اس زمین کو ممکنہ حد تک اسی مصرف کے لئے استعمال کرنا لازم اور ضروری ہے ، کسی اور مقصد کے لئے اس جگہ کو اس طرح استعمال کرنا کہ وقف کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے ،شرعاً جائز نہیں۔
لہذا سوال میں مذکور قبرستان اگر باقاعدہ وقف ہو ،اور اب بھی اس میں مردے دفنانے کی گنجائش اور ضرورت باقی ہو ،تو اسے قبرستان کے بجائے مسجد کے لئے اس طرح مختص کرنا کہ اس میں تدفین کی کوئی صورت ممکن نہ رہے ،شرعاً جائز نہیں ،البتہ اس پر تعمیر ِمسجد کے لئے اس انداز سے پیلر اور چھت ڈالنا کہ اس سے مردوں کی تدفین میں کوئی خلل نہ آئیں ،شرعاً اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ،تاہم اس تعمیر سے قبل اگر واقف یا متولیوں میں سے کوئی حیات ہو ،تو اس کے ساتھ ،ورنہ علاقے کے ذمہ دار لوگوں کے ساتھ مشورہ کرکے اتفاقِ رائے سے اس کا آغاز کرنا چاہیئے ،تاکہ بعد میں اختلاف اور انتشار کا سبب نہ بنے ۔
کما فی عمدۃ القاری : وَ أما الْمقْبرَة الداثرة إِذا بني فِيهَا مَسْجِد ليصلى فِيهِ فَلم أر فِيهِ بَأْسا، لِأَن الْمَقَابِر و قف، وَ كَذَا الْمَسْجِد، فمعناها وَ احِد اھ(4/ 174)۔
و فیھا ایضاً ؛ فَإِن قلت : هَل يجوز أَن تبنى على قُبُور الْمُسلمين ؟ قلت : قَالَ ابْن الْقَاسِم : لَو أَن مَقْبرَة من مَقَابِر الْمُسلمين عفت فَبنى قوم عَلَيْهَا مَسْجِدا لم أر بذلك بَأْسا، وَ ذَلِكَ لِأَن الْمَقَابِر و قف من أوقاف الْمُسلمين لدفن موتاهم لَا يجوز لأحد أَن يملكهَا، فَإِذا درست وَ اسْتغْنى عَن الدّفن فِيهَا جَازَ صرفهَا إِلَى الْمَسْجِد، لِأَن الْمَسْجِد أَيْضا و قف من أوقاف الْمُسلمين لَا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هَذَا وَ احِد اھ(1 /179) ۔
و فی رد المحتار : (و تؤخذ أرض ) في الفتح : و لو ضاق المسجد و بجنبه أرض و قف عليه أو حانوت جاز أن يؤخذ و يدخل فيه الخ ،زاد في البحر عن الخانية بأمر القاضي و تقييده بقوله: و قف عليه أي على المسجد يفيد أنها لو كانت و قفا على غيره لم يجز لكن جواز أخذ المملوكة كرها يفيد الجواز بالأولى ، لأن المسجد لله تعالى، و الوقف كذلك و لذا ترك المصنف في شرحه هذا القيد و كذا في جامع الفصولين تأمل اھ (4/ 379)۔