ترجمہ: اگر مرد اللہ رسول کو حاضر ناظر جان کر وعدہ کرے، قسم کھائے کہ تم سے نکاح کرونگا اور کچھ دن بعد ا پنی بات سے مکر جائے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے لئے اس نے اپنی عزت کی پروا ہ نہیں کی، صرف اسکی اللہ رسول کی قسم پر یقین کیا جو اس آدمی نے کہی تھی، اللہ رسول کو حاضر ناظر جان کر ؟
واضح ہو کہ کسی اجنبی لڑکے،لڑکی کیلئے نکاح سے قبل آپس میں تعلقات قائم کرنا بے تکلفانہ بات چیت ہنسی مذاق اور تنہائی میں ملنا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جبکہ نکاح کے جھوٹے وعدے کرنا بھی شرعاً ناجائز اور گناہ ہے جس پر بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے مذکور ناجائز کاموں سے احتراز لازم ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورلڑکے لڑکی پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کیلئے دوبارہ آپس میں رابطہ قائم کرنے،بات چیت ، اور ملنے جلنے سےمکمل اجتناب کریں،جبکہ نکاح جیسے زندگی کے اہم فیصلے ازخود کرنا جسارت کی بات ہے شریف خاندانوں میں اس طرح نکاح کرنے کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس طرح چھپ کرکیا ہوا نکاح چونکہ والدین اور بزرگوں کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے، اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے،اس لئے مذکور لڑکی کو ازخود اس معاملہ کو آگے بڑھانے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: و لا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب و محاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، و لا نجيز لهن رفع أصواتهن و لا تمطيطها و لا تليينها و تقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن و تحريك الشهوات منهم، و من هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: و يشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة اھ (1/406)۔