کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں؟
ایک شخص کا کراچی میں انتقال ہوا یہاں اس کے عزیز وقارب اور اہل محلہ اس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے لیکن اس کا بڑابیٹا جنازے میں شامل نہیں ہوا اس نیت سے کہ میت کو چونکہ صوبہ خیبر پختون خواہ لے جانا ہے وہاں بھی میت کے عزیز وقارب اور برادری کے لوگ ہیں ان کی خواہش ہے کہ میت کی نمازِ جنازہ گاؤں میں دوبارہ پڑھی جائے تو مرحوم کے بڑے بیٹے کا ارادہ تھا کہ گاؤں میں نمازِ جنازہ میں شامل ہو لیکن میت کو گاؤں پہنچانے کے بعد وہاں گاؤں کے مولوی صاحب نے کہا کہ دوبارہ نمازِ جنازہ جائز نہیں چنانچہ انتشار سے بچنے کے لئے میت کی دوبارہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھی گئی۔
اب یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا مذکورہ بالا صورت میں میت کی دوسری مرتبہ نمازِ جنازہ جائز ہے یانہیں؟ ازروئے شرع اس کا کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا
واضح رہے کہ مرحوم کے بڑے بیٹے کے علاوہ باقی بیٹوں نے مرحوم کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی۔
واضح ہو کہ چند اولیاء کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد اسی درجے کے دوسرے اولیاء کو نمازِ جنازہ پڑھنے کی شرعاً اجازت نہیں ہوتی چنانچہ مرحوم کے چند بیٹوں نے یہاں کراچی میں جب مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی تو گاؤں جاکر بڑے بیٹے کا دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا درست نہیں تھا، لہذا گاؤں کے مولوی صاحب موصوف کا دوبارہ جنازہ پڑھنے سے منع کرنا بھی درست ہوا ہے۔
كما فی الھندیة: ولو صلی علیه الولی وللمیت اولیاء اخر بمنزلته لیس لھم أن یعیدوا الخ( ج۱ ص ۱۶۴)
وفیه ایضاً رجل صلیٰ صلوٰة الجنازة ولولی خلفه ولم یرض به إن تابعه فصلی معه جاز ولایعید الولی الخ (أیضاً)
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراق الفلاح: ولو صلیٰ علیه الولی وللمیت اولیاء آخرون بمنزلته لیس لھم أن یعیدوا لأن ولایة الذی صلی متكاملة الخ (ج۱ ص۵۹۱)
وفی البنایة شرح الھدایة: ولو تشاجر الولیان فتقدم أجنبی، إن صلی الأولیاء خلفه جازت ولا تعادوا للولی اعادتھا الخ (ج۳ ص۲۱۰) والله اعلم