میرا سوال ہے کہ آپ کا فتوی دیکھاکہ مجبوری میں طلاق نامہ پہ سائن کیاتو طلاق ہوگئی ،تو نبی پاک ﷺ نے جوحضرت رکانہ رضی اللہ عنہ سے قسم لی کہ تمہارا ارادہ کیاتھا، یا تمہاری مراد کیا تھی ، تو کیا اس میں ارادے کا یا نیت کا خیال نہیں رکھا گیا ؟سنت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
واضح اورصریح الفاظِ طلاق کےاستعمال کرنےکی صورت میں شرعاً نیت وارادہ کااعتبارنہیں کیاجاتا،اورنہ ہی اس کیلئےنیت کی ضرورت ہوتی ہےبلکہ بلانیت وارادہ کےبھی طلاق ہوجاتی ہے،جبکہ کنایہ الفاظِ طلاق استعمال کرنے کی صورت میں نیت وارادہ کااعتبار کیاجاتاہے ،چنانچہ سائل نے جس فتوی کاذکرکیاہے اس میں استعمال شدہ الفاظ طلاقِ صریح ہیں،اس لئےاس میں نیت وارادہ کااعتبار نہیں کیاگیا،جبکہ"حدیث رکانہ"میں جو الفاظِ طلاق مذکور ہیں وہ کنایہ ہیں،اسلئے نبیﷺنےان سے نیت وارادےسےمتعلق سوال کیاتھا،لہذادونوں صورتوں کی نوعیت جدا ہونے کی وجہ سے ان کاحکم بھی مختلف ہے،اسلئےان دونوں کوایک دوسرےکےساتھ خلط ملط کرکےبلاتحقیق کسی مسئلہ پرمعترض ہونا مناسب نہیں۔
کما فی التنزیل العزیز: الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان (الی قولہ) فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔الآیۃ (سورۃ البقرۃ /230)۔
وفی الترمزی: عن عبداللہ بن یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہ قال اتیت النبیﷺفقلت یارسول اللہ انی طلقت امراتی البتۃ فقال مااردت بھا، قلت واحدۃ،قال واللہ،قلت واللہ، قال فھو مااردت. ھذا حدیث لانعرفہ الا من ھذا الوجہ وقد اختلف اھل العلم من اصحاب النبیﷺوغیرھم فی طلاق البتۃ فروی عن عمر بن الخطاب انہ جعل البتۃ واحدۃ وروی عن علی انہ جعلھا ثلاثا وقال بعض اھل العلم فیہ نیۃ الرجل ان نوی واحدۃ فواحدۃ وان نوی ثلاثا فثلاث وان نوی ثنتین لم تکن الا واحدۃ وھو قول الثوری واھل الکوفۃ الخ(ج1 صـ222 ابواب الطلاق باب ماجاء فی الرجل طلق امراتہ البتۃ ط: المیزان)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ: کبتۃ) من البتۃ بمعنی القطع فیحمل ما احتملہ البائن (الی قولہ) او بتلۃ من البتل وھو الانقطاع وبہ سمیت مریم لانقطاعھا عن الرجال وفاطمۃ الزھراء لانقطاعھا عن نساء زمانھا فضلا ودینا وحسبا وقیل عن الدنیا الی ربھا الخ (ج3 صـ 300 کتاب الطلاق باب الکنایات ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الدرالمختار: والکنایات ثلاث ما یحتمل الرد او مایصلح للسب او لا ولا (الی قولہ)(یحتمل الرد ونحو خلیۃ بریۃ حرام بائن) ومرادفھا کبتۃ بتلۃ الخ (ج3 صـ 300 کتاب الطلاق باب الکنایات ط: ایچ ایم سعید )۔