میری بیٹی کا رشتہ میرے بھانجے سےتین سال پہلے طے ہوا تھا زبانی ، ان تین سالوں میں بہن نے اس کو بہو کہہ کر اپنے رشتہ داروں میں تعارف کروایا اور دعوت پر بھی بلایا ، اب جب تین سال کے بعد میں نے ان سے کوئی رسم یا نکاح کا کہا تو انہوں نے استخار ہ کروایا ، جس میں منع آیا اور انہوں نے رشتہ سے انکار کردیا، جبکہ ان تین سالوں میں میری بیٹی کے اچھے رشتے بھی آئے، مگر میں نے منع کر دیا کیوں کہ میں بہن کو زبان دے چکی تھی ، براہِ کرم مجھےبتائیں کہ انہوں نے میرے ساتھ صحیح کیا ؟ میں بہت تکلیف میں ہوں ، ان کا کہنا ہے کہ ہمارا کوئی قصور نہیں اللہ کی طرف سے منع آیا ہے ۔
واضح ہو کہ استخارہ منگنی یا رشتہ کرنے کے وعدہ سے قبل کیا جاتا ہے ، با قاعدہ کسی سے رشتہ کی بات پکی کرنے کے بعد استخارہ کو بنیاد بنا کر رشتہ سے انکار کرنا نہ صرف وعدہ خلافی اور منافقین کی علامت ہے، بلکہ لڑکی کے مستقبل میں پریشانیاں پیدا کرنے کا سبب بھی ہے ، اس لئے سائلہ کی بہن کا اپنی بھانجی کو تین سال تک بطورِ بہو متعارف کرانے کے بعد اس رشتہ سے انکار کرنا شرعاً وعرفاً و اخلاقاً ہر اعتبار سے غلط طرزِ عمل ہے ، لہذا ولاً تو اسے حسبِ وعدہ اپنی بھانجی کو بہو بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے ، تا ہم اگر اب یہ صورت ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کی بہن کو سائلہ، اپنی بھانجی اور دیگر اہل ِخانہ کی دل آزاری کرنے پر ان سے دست بستہ معافی مانگنی چاہیئے اور ہر اس بات سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیئے جس کی وجہ سے سائلہ کی بیٹی کے لئے مستقبل میں کوئی پریشانی بن سکتی ہو ۔
قال اللہ تعالی: یا ایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود الآیۃ ( آیتـ 1 سورۃ المائدۃ )
وفی احکام القرآن: روی عن جابر فی قولہ ( اوفوا بالعقود) قال ھی عقدۃ النکاح و البیع و الحلف الخ (مطلب فی عقود الجاھلیۃ ج 2 صـ 294 ط : سھیل اکیڈیمی) واللہ اعلم