رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ پیشاب کے قطرے سے نہ بچنے والے کو عذاب قبر ہو گا، اور وہ شخص جسے پیشاب کے قطرے آتے ہیں اور بیماری ہو تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور شرعی طور پر معذور جیسے پیشاب کے قطروں کی بیماری والا نماز کی امامت کروا سکتا ہے ؟ ضرور رہنمائی فرمائیں۔
اللہ آپ سے راضی ہو اور امت کے لئے اسی طرح کام کرتے رہیں ۔آپ کے جواب کا منتظر
سائل نے سوال میں جس حدیثِ مبارک کی طرف اشارہ کیا ہے محدثینِ کرام رحمھم اللہ کی تشریحات کے مطابق اس میں ذکر کردہ وعید اس شخص کے بارے میں ہے جو باوجود قدرت و استطاعت کے پیشاب کے قطروں سے بچنے کا اہتمام نہ کرتا ہو، تاہم جو شخص معذور ہو( یعنی اسے پیشاب کے قطروں کی بیماری ہو ) وہ اس وعید میں داخل نہیں، جبکہ اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ آتے ہوں کہ اسے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ جس میں وہ با وضو ہو کر فقط وقتی فرض نماز ادا کر سکے تو ایسا شخص شرعاً معذور کہلاتا ہے، اور معذور شخص کے لئے عذر کی حالت میں غیر معذور صحت مند لوگوں کی امامت کرانا جائز نہیں ہے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: «مر النبي - صلى الله عليه وسلم - بقبرين، فقال: (إنهما ليعذبان، وما يعذبان في كبير، أما أحدهما فكان لا يستتر من البول اھ
وفی حاشیتہ: قال بعضهم: معناه إنهما لا يعذبان في أمر يشق ويكبر عليهما الاحتراز عنه، وإلا لكانا معذورين كسلس البول والاستحاضة ( الی قولہ)وفي رواية لمسلم: لا يستنزه بنون ساكنة بعدها زاي ثم هاء. قال الشيخ: فعلى رواية الأكثر معنى الاستتار أنه لا يجعل بينه وبين بوله سترة يعني لا يتحفظ منه فيوافق رواية لا يستنزه لأنها من التنزه وهو الإبعاد اهـ. وهو جمع حسن ومآله إلى عدم التحفظ عن البول المؤدي إلى بطلان الصلاة غالبا وهو من جملة الكبائر. قال ميرك: وعن ابن عباس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ( «عامة عذاب القبر من البول، استنزهوا من البول» ) الخ ( باب آداب الخلاء ج 1 ص 51 ط: رشیدیۃ)۔
و فی الدر المختار: (ولا طاهر بمعذور) هذا (إن قارن الوضوء الحدث أو طرأ عليه) بعده (وصح لو توضأ على الانقطاع وصلى كذلك) كاقتداء بمفتصد أمن خروج الدم؛ وكاقتداء امرأة بمثلها، وصبي بمثله، ومعذور بمثله وذي عذرين بذي عذر، لا عكسه كذي انفلات ريح بذي سلس لأن مع الإمام حدثا ونجاسة الخ
و فی الرد المحتار تحت (قوله ومعذور بمثله إلخ) أي إن اتحد عذرهما، وإن اختلف لم يجز كما في الزيلعي والفتح وغيرهما. وفي السراج ما نصه: ويصلي من به سلس البول خلف مثله. وأما إذا صلى خلف من به السلس وانفلات ريح لا يجوز لأن الإمام صاحب عذرين والمؤتم صاحب عذر واحد الخ ( باب الامامۃ ج 1 ص 578 ط: سعید)۔