السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اسنوکر گیم ( snooker game) کھیلنا جائز ہے ؟جیسا کہ ہم نے پڑھا ہے گوٹیوں والی گیم کھیلنا حرام ہے، اسنوکر میں 11 چھوٹی چھوٹی بالز ہوتی ہیں، کیا بنا جوا اور بنا شرط لگائے کھیل سکتے ہیں؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔شکریہ!
واضح ہو کہ شریعتِ مطھرہ نے ہر ایسے کھیل کی جس میں مصلحتِ دینی یا دنیوی ہو اجازت دی ہے، بشرطیکہ اس میں نہ تو کسی معصیت کا ارتکاب کرنا پڑتا ہو اور نہ ہی اتنا انہماک ہو کہ جس سے نماز یا کسی دوسرے فرض و واجب میں خلل پڑتا ہو، لہذا اس قسم کا کھیل کھیلنے کی فی نفسہ اجازت ہے، لیکن اگر اس کھیل کے بجائے کوئی اور کھیل کھیلا جائے جس میں جسمانی ورزش بھی ہو تو وہ زیادہ بہتر ہے۔
کما فی تکملۃفتح الملہم : وعلی ھذا الاصل فالألعاب التی یقصد بھا ریاضۃ الأبدان او الأذھان جائزۃ فی نفسھا، مالم تشتمل علی معصیۃ أخری، وما لم یؤد الانھماک فیھا إلی الإخلال بواجب الإنسان فی دینہ ودنیاہ، واللہ سبحانہ أعلم اھ (کتاب الشعر حکم الألعاب فی الشریعۃ ج 4 صـ 436 ط: دار العلوم کراتشی)