السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب میں قضا عمری ادا کر رہا ہوں ایک عالم سے سنا ہے کہ پہلی رکعت میں ثنا چھوڑ دیں فاتحہ پڑھیں اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائیں رکوع میں ایک دفعہ سبحان ربی العظیم پڑھیں اور پھر سجدے میں جائیں سجدے میں بھی ایک دفعہ سبحان ربی الاعلی پڑھیں اسی طرح دوسری رکعت مکمل کریں اور تشہد کے بعد تیسری رکعت میں تین دفعہ سبحان اللہ کہنے کے برابر ٹائم کے قیام کریں اس کے بعد رکوع سجود اور آخری تشہد کے بعد صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہم اغفرلی کہہ کر سلام پھیر دیں۔اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کیا اس طرح نماز ادا کرنے سے ہو جائے گی؟ جزاکم اللہ۔
سائل کو چاہیئے کہ وہ اپنی فوت شدہ نمازوں کو سنت طریقہ کے مطابق ہی ادا کرے ، تاکہ نمازوں کا پورا پورا اجر وثواب حاصل ہو سکے،البتہ اگر فوت شدہ نماز کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ اس کو مکمل کرنا مشکل ہو رہا ہو،تو سوال میں ذکر کردہ طریقہ کے مطابق نماز ادا کرنے سے اگر چہ فرض ذمہ سے ساقط ہو جائیگا، تاہم ایسا کرنا مکروہ ہے،جبکہ فرض نمازوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ پہلی دو رکعات میں ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا واجب ہے، جس کے نہ پڑھنے سے سجدہ سہولازم ہوتا ہے، اس لیے اس طریقہ میں بھی سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملانے کا اہتمام چاہیئے۔(از تبویب)
کما فی الدر المختار: (وسننها) ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف الخ(ج 1 ص 473)۔
وفیہ ایضا: (وتعديل الأركان) أي تسكين الجوارح قدر تسبيحة في الركوع والسجود، وكذا في الرفع منهما على ما اختاره الكمال الخ(ج 1 ص 464)۔
وفیہ ایضا: (قراءة فاتحة الكتاب) فيسجد للسهو بترك أكثرها لا أقلها،(الی قولہ) (وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار الخ( ج 1 ص 458)۔
وفی رد المحتار :تحت قولہ(قوله لا يوجب فسادا ولا سهوا) أي بخلاف ترك الفرض فإنه يوجب الفساد، وترك الواجب فإنه يوجب سجود السهو الخ( ج 1 ص 478)۔
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0