میری 4 بیٹیاں ہیں اور اللہ نے ان کے بعد ایک بیٹا عطا کیا مگر حکم الہٰی سے اس کا وصال ہوگیا،میری بیوی کے 5 آپریشن ہوچکے ہیں اور اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ مزید ایک سے زیادہ کی کوشش میں جان کو خطرہ ہوگا،اور میری بیوی میرے بیٹے کے جانے کے بعد ڈپریشن اور غم کا شکار ہے،اور میری بیٹیوں کی بھی امید ٹوٹتی نظر آرہی ہے وہ بھی بھائی کی جدائی میں بہت غمگین ہیں،کیا میں سپرم سوٹینگ یا ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے سے بیٹے کے حصول کے لیے کسی ڈاکٹر سے رابطہ کرسکتا ہوں؟ رہنمائی فرمائیں اور دعا کیجیے گا ۔
واضح ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے حصولِ اولاد کے لئے جو مختلف طرق رائج ہیں ، ان میں سے سخت مجبوری کے تحت صرف اس طریقے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، کہ مادۂ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو ، اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے ، جہاں وہ حمل پرورش پائے ، اور یہ عمل خود بیوی، یا اس کے شوہر ، یا کسی ماہرمعالج عورت سے کروایا جائے ، اور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے ، لہذا اگر اس طریقے کو اختیار کر کے ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے اولاد حاصل کی جائے ، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ، اس کے علاوہ باقی طریقے غیر فطری ہونے کے ساتھ غیر شرعی بھی ہیں ، جن سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن ابی داؤد : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : لا يحل لامرئ يؤمن بالله و اليوم الآخر أن يسقى ماءه زرع غیرہ اھ (293/1)
و في الفقه الاسلامى : التلقيح الصناعي : هو استدخال المنى لرحم المرأة بدون جماع ، فان كان بماء الرجل لزوجته جاز شرعاً ، اذ لا محدود فيه بل قد يندب اذا كان هناك مانع شرعى من الاتصال الجنسي اھ (559/3)