السلام علیکم!
مفتی صاحب، امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے، مفتی صاحب، میں ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ میں کمپیوٹر آپریٹر کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں، ہمارے آفس میں انٹرنیٹ لگا ہوا ہے اکثر لوگ مجھ سے وائی فائی کا پاسورڈ پوچھتے ہیں، جس کے بعد موبائل کو انٹرنیٹ کے ساتھ لنک کر کے اپنے موبائل فون پر گانے، فلمیں، وغیرہ دیکھتے ہیں، میں ان کو منع بھی کرتا ہوں کہ یہ مت دیکھا کریں پھر بھی میری کوئی نہیں سنتا، مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ آیا میں ان کو پاسورڈ دے کر گنہگار تو نہیں ہو رہا ہوں؟ اور جبکہ میں ان کو اگر پاسورڈ نہیں دیتاتو بات میری نوکری پہ آتی ہے، رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
سائل کے لئے بطور کمپیوٹر آپریٹر آفس کے لوگوں کو وائی فائی کا پاسورڈ دینے کی اجازت ہو تو اس کا لوگوں کو یہ پاسورڈ دینے میں حرج نہیں، البتہ اگر کوئی انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرے تو اس کا گناہ اسی کو ملے گا، تاہم اگر کسی کے متعلق سائل کو یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرے گا، اور کسی مناسب طریقے سے اس سے پاسورڈ روکا جاسکتا ہو تو سائل کو چاہیئے کہ ایسے شخص کو پاسورڈ دینے سے اجتناب کرے۔
کما فی الدرالمختار: (و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية الخ۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني اھ (ج6، ص691، ط۔ سعید)۔
وفی فقہ البیوع: وذالك بثلاثة وجوه: الأول: أن يقصد الإعانة على المعصية، فإن من باع العصير بقصد أن يتخذ منه الخمر، كان عاصيا في نفس هذا البيع بهذه النية والقصد.
الثاني: بتصريح المعصية في صلب العقد، كمن قال: بعني هذا العصير لأتخذه خمرا فقال: بعتة، فإنه بهذاالتصريح تضمن العقد نفسه معصية.
الثالث : بيع أشياء ليس لها مصرف إلا في المعصية.
ففي جميع هذه الصور قامت المعصية بعين هذا العقد، والعاقدان كلاهما أثم بنفس العقد، سواء استعمل بعدذالك في المعصية أم لا . ( 184/1)
وفیہ ایضاً: إذا كان سبباً محركاً ، فالبيع ، حرام، وإن لم يكن محركا، وكان سبياً قريباً بحيث يستخدم في المعصية في حالتها الراهنة، ولا يحتاج إلى صنعة جديدة من الفاعل، كره تحريما، وإلا فتنزيها بشرط أن يعلم به البائع ، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً. ( 186/1)