السلام علیکم !
مجھے معلوم پڑا ہے کہ تمام اسلامی بینکس مفتی تقی عثمانی صاحب کا پرانا فتویٰ دکھا کر لوگوں کو اسلامک سیونگ اکاؤنٹ کی طرف لا رہے ہیں ، جبکہ مفتی صاحب نے کسی بھی قسم کے اسلامک بینک کے معاملات کو درست نا ہونے کی وجہ سے تمام سیونگ اکاؤنٹس کو ختم یا کرنٹ اکاؤنٹس میں کنورٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے ، براہِ کرم اس بات کی تصدیق کر دیں کہ کیا واقعی اب ہم کسی بھی اسلامک بینکنگ پر بھروسہ نہیں کر سکتے ؟
مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ کاغیر سودی بینکاری سے متعلق اپنے سابقہ فتوی سے رجوع ہمارے علم میں نہیں اور نہ ہی مروّجہ اسلامی بینکوں سے اکاؤنٹ ختم کرنے کا بیان ہماری نظر سے گزرا ہے ، اس لئے اس سے متعلق خود ان سے یا ان کے ادارے سے رجوع کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے، جبکہ وطنِ عزیز میں جو مالیتی ادارے مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہیں، اور ان کا عملی طریقہ کار بھی شرعی اصولوں کے عینِ مطابق ہو ،تو ان کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے اور ان سے حاصل ہونے والے منافع کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، البتہ سائل کو اگر کسی صورت سے متعلق کوئی شبہ ہو تو اس کی مکمل وضاحت کر کے حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔