السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کے ایس اے(KSA) میں کام کرنے والا فائننس پروفیشنل ہوں ،اور مجھے کے ایس اے (KSA) مجھے اپنے استعمال کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے، کے ایس اے (KSA) میں اورگھر کے لیے بھی پاکستان میں قسطوں پر، لیکن میں نے کچھ اسلامی بینکاری ماڈل جیسے میزان بینک کی جانب سے پیش کی جانے والی گاڑی، اس کا مطالعہ کیا ہے جسے فتوے کی مدد حاصل ہے، لیکن فائننس پروفیشنل ہونے کے ناطے میں مطمئن نہیں ہوں کہ یہ حلال ہے یا نہیں اور اسے سود تو نہیں سمجھا جائے گا؟
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک فی الحال مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں اپنے مالی معاملات سر انجام دے رہا ہے ، لہذا سائل کیلئے مذکور بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا جائز اور درست ہے۔