السلام علیکم شیخ! میں ہندوستان سے ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی کے لیے اپنے ملک کے مرکزی بینک میں کام کرنا حلال ہے؟ جیسا کہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اس کے شعبہ اقتصادی اور پالیسی کی تحقیق میں بطور آفیسر کام کرنا حلال ہے؟ اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ یہ بینک مرکزی حکومت کا ذاتی بینک جیسا ہوتا ہے، اس میں عوام اپنا پیسہ جمع نہیں کرا سکتے، اور نہ ہی اس سے قرض لے سکتے ہیں، ہاں یہ بینک ملک کی معیشت کے لئے پالیسی بناتا ہے، انٹرسٹ ریٹ سیٹ کرتا ہے، اور وقت پڑنے پر حکومت کو قرض بھی فراہم کرتا ہے، اور صرف حکومت کو نہیں ملک کے دیگر بینکوں کو بھی قرض دیتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسکا حکم بھی سودی بینک کے زمرے میں ہے یا پھر فائنانس منسٹری اور حکومت کے دیگر اداروں میں کام کرنے جیسا ہے؟ براہ کرم جلد از جلد اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
ملک کے مرکزی بینک کے کسی بھی شعبے میں کوئی ایسی ملازمت اختیار کرنا جس کا براہ راست سودی لین دین سے تعلق اور واسطہ ہوشرعاً جائز نہیں، البتہ اسکے علاوہ کوئی اور ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
کما فی صحیح البخاری: باب آكل الربا وشاهده وكاتبه وقوله تعالى: {الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بأنهم قالوا: إنما البيع مثل الربا، وأحل الله البيع وحرم الربا، فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وأمره إلى الله، ومن عاد فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون} [البقرة: 275] (ج3 صـ59 ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی صحیح مسلم: عن عبد الله، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله»، قال: قلت: وكاتبه، وشاهديه؟ قال: «إنما نحدث بما سمعنا» الحدیث (ج3 صـ1218 باب لعن آكل الربا ومؤكله ط: دار احیاء التراث العربی)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0