السلام علیکم! غیر مسلم ملک میں رہتے ہوئے اگر پرانے مقدس اوراق کو تلف کرنا مقصود ہو تو کیا پیپر شریڈر(Paper Shredder )استعمال کرتے ہوئے ان کو ریزہ ریزہ کیا جاسکتا ہے اور بعد ازاں عام کوڑے کے ساتھ لفافے میں بند کرکے پھینکا جاسکتا ہے؟یہ پیپر شریڈر کاغذ کو ایک ایک حرف جتنا باریک ریزہ ریزہ کردیتا ہے،دراصل یہاں غیر مسلم ملک میں دریاؤں میں کسی چیز کا ڈالنا قانوناً جرم سمجھا جاتا ہے اور ہم لوگ یہاں مشترکہ اپارٹمنٹ والی بلڈنگ میں رہتے ہیں،یعنی اگر اپنے اپارٹمنٹ میں ان کو آگ لگائی جائے تو اندیشہ ہے کہ بلڈنگ کے فائر الارم بج اٹھیں گے،ازراہِ نوازش اس سلسلے میں کوئی رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر پیپر شریڈر کے ذریعے مقدس اوراق اس حد تک باریک ریزہ ریزہ ہو جائیں کہ کوئی حرف یا کلمہ قابلِ شناخت نہ رہے، تو عرفاً یہ حروف مٹ جانے کے حکم میں ہے، لہٰذا ایسی حالت میں شریڈر کا استعمال اور بعد ازاں ان ریزوں کو الگ لفافے میں بند کرکے کچرے میں ڈالنے کی گنجائش ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس لفافےکو ایسے کوڑےدان میں ڈالنے سے گریزکیاجائے جہاں ناپاک اشیاء پڑی ہوں،تاکہ بے ادبی کے شائبہ سے بھی بچاجاسکے ۔
کما فی الھندیۃ: المصحف إذا صار خلقا لا یقرأ منہ ویخاف أن یضیع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن ودفنہ أولی من وضعہ یخاف أن یقع علیہ النجاسۃ أو نحو ذلک ویلحد لہ لأنہ لو شق ودفن یحتاج إلی اھالۃ التراب علیہ وفی ذلک نوع تحقیر إلا إذا جعل فوقہ سقف بحیث لایصل التراب الیہ فھو حسن أیضاً کذا فی الغراب المصحف إذا صار خلقا وتعذرت خلقا القراءۃ منہ لا یحرق بالنار أشار الشیبانی إلی ھذا فی السیر الکبیر وبہ نأخذ کذا فی الذخیرۃ الخ (الباب الخامس فی آداب المسجد ج: 5، ص: 323، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: الکتب التی لا ینتفع بھا یمحی عنھا اسم اللہ و ملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلفی فی ماء جار کما ھی أو تدفن أحسن کما فی الأنبیاء الخ
وفی رد المختار تحت: (قولہ کما فی الأنبیاء) (إلی قولہ) والدفن أحسن کما فی الأنبیاء والأولیاء إذا ماتوا وکذا جمیع الکتب إذا بلیت وخرجت عن الانتفاع بھا اھ یعنی ان الدفن لیس فیہ إخلال بالتعظیم لأن أفضل الناس یدفنون وفی الذخیرۃ المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءۃ منہ لا یحرق بالنار إلیہ أشار محمد وبہ نأخذ ولا یکرہ دفنہ و ینبعی أن یلف بخرقۃ طاھرۃ ویلحد لہ لأنہ لو شق ودفن یحتاج إلی إھالۃ التراب علیہ وفی ذلک نوع تحقیر إلا إذا جعل فوقہ سقف وإن شاء غسلہ بالماء أو وضعہ فی موضع طاھر لاتصل إلیہ ید محدث ولا غبار ولا قذر تعظیما لکلام اللہ عزوجل الخ (کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی البیع ، ج: 6، ص: 422، ط: ایچ ایم سعید)۔