کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ’’ضرب مومن‘‘ اخبار میں جن اشیاء کے بارے میں آتا ہے کہ ان میں سور کی چربی شامل ہے، اس بنیاد پر ان اشیاء کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اِ ن خبروں کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
۲۔ آج کل ویڈیو گیمز کا کاروبار ملک بھر میں بہت پھیلا ہوا ہے، جس کے بہت سے نقصانات وقوع پذیر ہو رہے ہیں، آ یا ویڈیو گیمز کا کاروبار کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے اور اس کی کمائی استعمال کرنا حلال ہے؟ شرعی نقطہ نظر سے وضاحت فرمائیں۔
۱۔ مذکور اشیاء میں سور کی چربی کا ملایا جانا اگر تحقیق سے معلوم ہو جائے، اور یہ بھی کہ کسی کیمیاوی طریقہ سے اس کی ماہیت کو تبدیل نہیں کیا گیا تو ان اشیاء کا استعمال قطعاً ناجائز اور حرام ہے، ورنہ ان کے استعمال کی شرعاً گنجائش ہے، تاہم ان اشیاء سے حاصل ہونیوالی آمدنی چونکہ مسلمانوں کی نسل کشی پر خرچ ہوتی ہے، اس لئے ان کی خریداری سے احتراز چاہیئے۔
۲۔ویذیو گیمز اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادات میں خلل انداز ہونے کے علاوہ کئی قبائح پر مشتمل ہو نے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لئے اِسے ذریعۂ معاش بنانے سے احتراز لازم ہے، اسی طرح مذکور عمل پر حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال سے بھی احتراز چاہیئے۔
ففی حاشية ابن عابدين: أقول: وفي بلاد الدروز كثير من النصارى، فإذا جيء بالقريشة أو الجبن من بلادهم لا يحكم بعدم الحل ما لم يعلم أنها معمولة بانفحة ذبيحة درزي، وإلا فقد تعمل بغير إنفحة، وقد يذبح الذبيحة نصراني تأمل اھ(6/ 298)-
وفی الدر المختار: (و) يطهر (زيت) تنجس (بجعله صابونا) به يفتى للبلوى. (1/ 315)-
وفی حاشية ابن عابدين: ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة اھ (1/ 316)-
قال اللہ تعالیٰ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ } [لقمان: 6]
وفی تفسير روح المعاني: قوله تعالى: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ قال: هو والله الغناء وبه وفسر كثير، والأحسن تفسيره بما يعم كل ذلك كما ذكرناه عن الحسن، وهو الذي يقتضيه ما أخرجه البخاري في الأدب المفرد، وابن أبي الدنيا، وابن جرير، وابن أبي حاتم، وابن مردويه، والبيهقي في سننه عن ابن عباس أنه قال: لَهْوَ الْحَدِيثِ هو الغناء، وأشباهه اھ (11/ 67)-
وفی الدر المختار: (لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) اھ (6/ 55)-
مقروض و محتاج آدمی کا کسی سرکاری ذمہ دار کےواسطہ سے ، سرکاری خزانے سے رقم لیکر قرض ادا کرنا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0ذاتی دکانوں پر بنانے ہوئے مصلے کا ملبہ اپنے استعمال میں لانا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0مرد کے لئے پلاٹینیم کی انگوٹھی پہننے اور معتدہ بیوی اور بچوں کے نان نفقہ کا حکم
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0خاوند کا اپنی بیوی کو یکہنا کہ: یہ زیور تم پر حرام ہے،پھر اسے دوبارہ دیدینا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0