بینک سے صنعتی قرضہ لینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یہ قرضہ ربا پر ہے کیا؟
سود کا لینا اور دینا ( ہر دو اُمور) گناہ ِکبیرہ ہے، اور سودی معاملات اختیار کرنے پر شریعتِ مطہّرہ نے بہت سخت وعیدیں بیان کی ہیں، جن کی بناء پر بینک یا کسی دوسرے ادارے اور شخص کے ساتھ سُودی معاملہ کرنے س مکمل احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر قرض لئے بغیر کاروبار کا سنبھلنا نہایت ناممکن ہو تو اس صورت میں کسی دوسرے سے قرض حسنہ لے لیا جائے، اگر یہ بھی ناممکن ہو تو پھر شرکت یا مضاربت کا معاملہ اختیار کر لیا جائے، اس میں برکت بھی ہوگی ،اور سود جیسی لعنت سے چھٹکارا بھی حاصل ہو جائےگا۔
قال الله تعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ (البقره: ۲۷۵)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0