کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:مسماۃ ۔۔۔نے ایک مکان مدرسہ کو دیا کہ آپ اس میں مدرسہ بناؤ اور جب تک میں زندہ ہوں،مجھے اس کا کرایہ دیتے رہیں،اور میرے مرنے کے بعد یہ مکان مدرسہ کے لئے وقف ہے اور یہ سارا معاملہ رجسٹری کرادیا،اب مدرسہ والوں کا خیال ہے کہ اگر اس جگہ پر مسجد بنائی جائے تو محلہ والوں کو زیادہ فائدہ ہوگا،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس جگہ مسجد بناسکتے ہیں یا نہیں؟اگر بنا سکتے ہیں تو بعد مسجد بننے کے ۔۔۔۔کرایہ کی مستحق ہوگی یا نہیں؟بینوا تؤجروا
واضح ہوکہ جب مسماۃ ۔۔۔ نے مذکور مکان صراحۃً خاص مدرسہ کے لئے وقف کردیا ہے،تو اب اس میں مسجد بنانا یا اسے کسی اور کارِ خیر میں لانا درست نہیں،بلکہ جب تک مسماۃ ۔۔۔ بقیدِ حیات رہے گی،اس وقت تک اس زمین کا کرایہ لینے کی وہ حقدار ہے،جو اُسے دیا جائے گا اور اس کی وفات کے بعد یہ مکان مدرسہ کے لئے وقف شمار ہوگا۔
کما فی الاشباہ والنظائر: شرط الواقف یجب اتباعھم لقولھم:شرط الواقف کنص الشارع أی فی وجوب العمل به اھ(ص/106)۔
وفی الدر المختار:(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى اھ(4/384)۔