کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے سابق امام صاحب(جن کا اب انتقال ہوچکا ہے) کی اہلیہ چار سال سے مسجد کے متصل مسجد کے مکان میں بلاعوض رہ رہی ہیں، جبکہ مسجد میں ان کی یا ان کی اولاد کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے،جبکہ ان کے پاس غالباً اپنا کوئی مکان بھی نہیں ہے،لیکن مسجد بہت چھوٹی اور تنگ ہے،اس میں توسیع کی ضرورت ہے،اس وجہ سے ان کو مکان خالی کروانے کا کہا جارہا ہے،پر وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں، کیا ان کا اس مسجد کے مکان میں رہنا شرعاً جائز اور درست ہے؟
مسجد کا مکان وقف کی جگہ ہے، جس میں مسجد کی خدمت سے منسلک حضرات کا مصالحِ مسجد کی بناء پر بوقتِ ضرورت اس میں رہائش اختیار کرنے کی گنجائش ہے،تاہم صورتِ مسئولہ میں امامِ موصوف کے انتقال کے بعد ان کی اولاد میں سے کوئی بھی مسجد کی خدمت پر مامور نہیں تو اس صورت میں ان کا بلاوجہ مسجد کے مکان میں رہائش اختیار کرنا،جبکہ مسجد میں توسیع کی بھی ضرورت ہے،درست نہیں، انہیں چاہیئے کہ وہ مسجد کا مکان خالی کردیں، البتہ مسجدِ انتظامیہ کو چاہیئے کہ امامِ موصوف کی خدمات کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کی فیملی وغیرہ کے لئے دوسری جگہ رہائش رکھنے کی صورت میں بصورتِ ممکن جتنا ہوسکے،ان کا مالی تعاون بھی کریں۔
کمافی الھندیة: ولا تجوز إعارة الوقف والإسكان فيه،كذا في محيط السرخسي (2/420)۔
وفیه ایضاً: وللمؤذن أن يسكن في بيت هو وقف على المسجد،كذا في الغرائب اھ(5/320)۔