میں ماہانہ 100,000 روپے کماتا ہوں، لیکن مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی میرے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا یہ اللہ کی مرضی ہے کہ میں اسی حالت میں رہوں، یا یہ میری کوششوں کا معاملہ ہے کہ میں جو کچھ کماتا ہوں، اسی میں گزارا کرنے کی کوشش کروں اور مزید کمانے کی کوشش بھی کروں؟
بلاشبہہ یہ بات ایمان کا حصہ ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم و ارادہ سے ہوتی ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (سورۃ الصافات: 96)
ترجمہ: "اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا فرمایا۔"
لیکن ساتھ ہی شریعت نے انسان کو محنت، کسبِ حلال، اور تدبیر کا مکلف بھی بنایا ہے، اللہ تعالیٰ نے رزق کے اسباب دنیا میں پھیلا دیے ہیں، اور انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ حلال ذرائع سے کوشش کرے اور اسباب اختیار کرے۔ کیونکہ کوشش و اسباب اختیار کرنا دین کا حصہ ہے،اس لیے حلال روزگارمیں اضافہ کی کوشش ہرگزتوکل کے منافی نہیں ۔ لہذاسائل اپنی معاشی حالت کی درستگی اوراس میں اضافہ کےلیےجائزوسائل بروئے کارلاتے ہوئے دیگرذرائع آمدن اختیارکرے تو شرعاًاس میں کوئی مضائقہ نہیں،البتہ سائل کوچاہیے کہ وہ اپنی کمائی کے مطابق بجٹ بنائے، فضول خرچی سے بچتے ہوئے مزید کمائی کے لیے جائز کوشش کرے کیونکہ یہ تقدیرکے ساتھ ساتھ حسن تدبیر کا بھی معاملہ ہے،جسے سنوارنے کامکلف شریعت نے ہرانسان کوبنایاہے۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ"(سورۃ النجم: 39)
وفی سنن الترمذی : عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو أنكم كنتم توكلون على الله حق توكله لرزقتم كما يرزق الطير،» تغدو خماصا وتروح بطانا.(166/4)
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0