بینک قرض دیتے ہیں، جن کو رہن کہا جاتا ہے ،اور یہ ان کے لئے ہوتا ہے ،جن کے پاس گھر خرید نے کے لئے زیادہ پیسے نہیں ہوتے ،یہ قرض واپس کیا جاتا ہے، بھاری شرح سود کے ساتھ قسطوں میں، کیا مسلمان کو یہ سہولت حاصل کرنی جائز ہے؟ اگر جائز نہ ہو تو اس کا حل کیا ہے ،کسی آدمی کے لئے کہ جس کے پاس اپنا ذاتی رہائشی گھر خرید نے کے لئے پیسہ نہ ہوں ؟
کسی بھی بینک سے سودی قرض کا لین دین کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے ،البتہ اپنی کوئی چیز رہن ، گروی کے طور پر رکھوا کر بلا سود قرض لے کر قسطوں میں واپس کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
ففي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين:(قوله كل قرض جر نفعا حرام)أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر (5/ 166)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته: قال الحنفية في الراجح عندهم: كل قرض جر نفعاً حرام إذا كان مشروطاً، فإن لم يكن النفع مشروطاً أو متعارفاً عليه في القرض، فلا بأس به، (5/ 444)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0