السلام علیکم! براہِ کرم یہ بتائیں کہ ایسے میّت کے جنازے کا کیا طریقہ یا حکم ہے، جو مقروض ہو اور اس کا قرض ادا کرنے والا کوئی نہ ہو، نیز اس کے پاس ادائیگی کے لیے کوئی مال یا جائیداد بھی نہ چھوڑی ہو، کیا ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی؟
مقروض شخص کی نمازِ جنازہ ادا کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے دیگر مسلمانوں کی نمازِ جنازہ ضروری ہے، البتہ احادیثِ طیبہ میں قرض کی جلد از جلد ادائیگی کی تاکید آئی ہے، اور اس بات پر تنبیہ کی غرض سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر مقروض کی نمازِ جنازہ خود پڑھانے سے انکار فرمایا تھا، تاکہ لوگ قرض کی ادائیگی کا اہتمام کریں، اور اس کی اہمیت کو سمجھیں،لیکن اس کے باوجود صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس مقروض کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا تھا، جس سے عوام الناس میں یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ شاید مقروض کی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہی نہیں، جبکہ بعض دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں جب اللہ نے مسلمانوں کو مالی اعتبار سے فراخی عطا فرمائی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر صحابہ کرام ایسے شخص کا قرض اپنے ذمہ لے لیتے تھے اور نمازِ ادا کرنے کا اہتمام فرماتے تھے۔
کما فی صحيح مسلم: عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم كان يؤتى بالرجل الميت عليه الدين فيسأل « هل ترك لدينه من قضاء ». فإن حدث أنه ترك وفاء صلى عليه وإلا قال « صلوا على صاحبكم ». فلما فتح الله عليه الفتوح قال « أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفى وعليه دين فعلى قضاؤه ومن ترك مالا فهو لورثته،(باب من ترك مالا فلورثته، ج:3، ص: 1273،دار إحياء التراث العربي بيروت)-
الدر المختار: (وهي فرض على كل مسلم مات خلا) أربعة (بغاة، وقطاع طريق) فلا يغسلوا، ولا يصلى عليهم، (باب صلاۃ الجنائز، ج: 2، ص:2010، ط: سعید)۔