کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کاروانِ حرم ایک ایسی کوشش ہے جس میں ہمارے خاص طور پر وہ مسلمان بھائی اور بہنیں عمرے کی سعادت حاصل کر سکیں گے کہ جن کی خواہش تو ہوتی ہے مگر وسائل اجازت نہیں دیتے، اس نیک کام کو سر انجام دینے کے لئے کاروان حرم نے ایک پیکج متعارف کرایا ہے جس میں وہ تمام مسلمان بھائی اور بہنوں کی مالی مدد سے یہ کام سر انجام دے گا۔ کاروانِ حرم اس نیک کام کے لئے ہر ممبر سے بطورِ ہدیہ مبلغ سولہ سو روپے لیکر اس کاروان میں شامل کیا جائے گا، پھر ہر تین ماہ کے بعد وہ تمام لوگ جو اس کاروان میں شامل ہوں گے قرعہ اندازی کے ذریعہ ہر ایک ہزار افراد سے دس افراد کو عمرہ کرایا جائے۔ جس میں مکمل اخراجات کاروان حرم برداشت کرے گا، اس بڑھتے ہوئے کاروان کو دو سال تک قرعہ اندازی میں شامل رکھا جائے گا اور دو سال کے بعد خرچہ گیارہ سو نکال کر باقی (۵۰۰) روپے ہر ممبر کو واپس کر دیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ممبر بناتے وقت آدمی کو یہ بتایا جائے گا اور یہ اجازت تحریری طور پر لی جائے گی، کہ اگر کسی بھی وقت کاروان کو بند کرنا پڑتا ہے یہ پیسہ کسی بھی جائز امور پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ صورت حال شرعاً جائز ہے تو ٹھیک ورنہ جو جائز صورت حال ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں بتا دیا جائے۔
لفظ ہدیہ کہنے سے کوئی چیز ہدیہ نہیں ہو جاتی، بلکہ اس چیز پر موہوب لہ کو باضابط مالکانہ قبضہ دینا ضروری ہے، جبکہ مذکور صورت میں یہ شرط مفقود ہے کیونکہ جن شرکاء کا نام قرعہ اندازی میں نہ نکلے گا تو وہ اس رقم کو واپس لینے کا حق دار شمار ہوگا اور وہ اس کے لئے قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہوگا، جو کہ ہبہ کے احکامات کے بالکل منافی ہے۔ لہذا مذکور معاملہ قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔ البتہ اس معاملہ کو جائز طریقے سے انجام دینا بھی ممکن ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ایک وقف پول قائم کیا جائے اور تمام مریدینِ حج و عمرہ کو شرعی شرائط کے تحت شئیرز ہولڈرز بنایا جائے، جس کے بنیادی چند نکات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں باقی تفصیلات کے لئے کسی مستند عالم سے وقتاً فوقتاً رہنمائی لیتے رہیں تاکہ شرعی حدود سے تجاوز نہ ہو۔
۱۔ کمپنی کے شیئر زہولڈرز اولاً کچھ رقم باقاعدہ وقف کریں ۔ اس رقم سے ایک وقف پول قائم کیا جائے اس میں شیئرز ہولڈروں کی حیثیت واقف کی ہوگی اور یہ رقم ہمیشہ فنڈ یا پول میں باقی رہے گی کیونکہ یہ اصل وقف ہے ۔
۲۔ یہ وقف پول اللہ تعالی کی ملکیت ہوگا کوئی اور مالک نہیں ہوگا یعنی نہ کمپنی مالک ہو گی اور نہ کوئی اور اس کا ایک مستقل معنوی وجود ہو گا جو کہ شخص حقیقی کی طرح مالک اور مملک بنے گا۔
۳۔ جو لوگ عمرہ کی سہولت حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک خاص مقدار میں حسبِ شرائط وقف نامہ فنڈ کو چندہ دیں گے۔
۴۔ شرکاء جو چندہ دیں گے وہ وقف نہیں ہو گا ،بلکہ مملوک وقف ہوگا، لہذا اس کو وقف کے اغراض کے لئے خرچ کرنا جائز ہوگا۔
۵۔ مذکور فنڈ کو شرعی طریقہ کے مطابق کاروبار میں لگایا جائے گا اور حاصل شدہ منافع کا مالک فنڈ ہی ہوگا۔
۶۔ وقف سے استفادہ کرنے کی شرائط طے کی جائیگی۔
۷۔ فنڈ سے شرکاء کو جو فوائد ملیں گے وہ ان کے تبرعات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ وہ عطاء مستقل ہونگے یعنی اس لحاظ سے کہ وہ بھی موقوف علیهم ( موقوف علیہ اس شخص کو کہتے ہیں جس پر وقف کیا گیا ہو) میں داخل ہیں۔
۸۔ وقف فنڈ چونکہ تمام رقوم خواہ اصل ہوں یا منافع ہوں کا مالک ہے اس فنڈ کو اختیار ہے کہ وہ اس کو جس طرح خرچ کرنا چاہے خرچ کرے۔
۹۔ تحلیل Binding upکی صورت میں تمام اخراجات ادا کر کے باقی ماندہ رقم کسی کار خیر میں لگایا جائے گا ، البتہ جو اصل وقف رقم تھی وہ اس جیسے کسی اور وقف میں دی جائیگی ۔
وقال الله تعالى: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (أما) الأول فهو أن لا يكون معلقا بما له خطر الوجود والعدم من دخول زيد وقدوم خالد والرقبى ونحو ذلك ولا مضافا إلى وقت بأن يقول وهبت هذا الشيء منك غدا أو رأس شهر كذا لأن الهبة تمليك العين للحال وأنه لا يحتمل التعليق بالخطر والإضافة إلى الوقت كالبيع. اھ (6/ 118)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: روى ابن عباس وابن سيدنا عمر - رضي الله عنهم - وروي عن مجاهد وسعيد بن جبير والشعبي وغيرهم - رضي الله عنهم - أنهم قالوا الميسر القمار كله حتى الجوز الذي يلعب به الصبيان اھ (5/ 127)۔