وقف

کاروانِ حرم کے متعارف پیکج کا حکم

فتوی نمبر :
84351
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / امانات / وقف

کاروانِ حرم کے متعارف پیکج کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کاروانِ حرم ایک ایسی کوشش ہے جس میں ہمارے خاص طور پر وہ مسلمان بھائی اور بہنیں عمرے کی سعادت حاصل کر سکیں گے کہ جن کی خواہش تو ہوتی ہے مگر وسائل اجازت نہیں دیتے، اس نیک کام کو سر انجام دینے کے لئے کاروان حرم نے ایک پیکج متعارف کرایا ہے جس میں وہ تمام مسلمان بھائی اور بہنوں کی مالی مدد سے یہ کام سر انجام دے گا۔ کاروانِ حرم اس نیک کام کے لئے ہر ممبر سے بطورِ ہدیہ مبلغ سولہ سو روپے لیکر اس کاروان میں شامل کیا جائے گا، پھر ہر تین ماہ کے بعد وہ تمام لوگ جو اس کاروان میں شامل ہوں گے قرعہ اندازی کے ذریعہ ہر ایک ہزار افراد سے دس افراد کو عمرہ کرایا جائے۔ جس میں مکمل اخراجات کاروان حرم برداشت کرے گا، اس بڑھتے ہوئے کاروان کو دو سال تک قرعہ اندازی میں شامل رکھا جائے گا اور دو سال کے بعد خرچہ گیارہ سو نکال کر باقی (۵۰۰) روپے ہر ممبر کو واپس کر دیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ممبر بناتے وقت آدمی کو یہ بتایا جائے گا اور یہ اجازت تحریری طور پر لی جائے گی، کہ اگر کسی بھی وقت کاروان کو بند کرنا پڑتا ہے یہ پیسہ کسی بھی جائز امور پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ صورت حال شرعاً جائز ہے تو ٹھیک ورنہ جو جائز صورت حال ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں بتا دیا جائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لفظ ہدیہ کہنے سے کوئی چیز ہدیہ نہیں ہو جاتی، بلکہ اس چیز پر موہوب لہ کو باضابط مالکانہ قبضہ دینا ضروری ہے، جبکہ مذکور صورت میں یہ شرط مفقود ہے کیونکہ جن شرکاء کا نام قرعہ اندازی میں نہ نکلے گا تو وہ اس رقم کو واپس لینے کا حق دار شمار ہوگا اور وہ اس کے لئے قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہوگا، جو کہ ہبہ کے احکامات کے بالکل منافی ہے۔ لہذا مذکور معاملہ قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔ البتہ اس معاملہ کو جائز طریقے سے انجام دینا بھی ممکن ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ایک وقف پول قائم کیا جائے اور تمام مریدینِ حج و عمرہ کو شرعی شرائط کے تحت شئیرز ہولڈرز بنایا جائے، جس کے بنیادی چند نکات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں باقی تفصیلات کے لئے کسی مستند عالم سے وقتاً فوقتاً رہنمائی لیتے رہیں تاکہ شرعی حدود سے تجاوز نہ ہو۔
۱۔ کمپنی کے شیئر زہولڈرز اولاً کچھ رقم باقاعدہ وقف کریں ۔ اس رقم سے ایک وقف پول قائم کیا جائے اس میں شیئرز ہولڈروں کی حیثیت واقف کی ہوگی اور یہ رقم ہمیشہ فنڈ یا پول میں باقی رہے گی کیونکہ یہ اصل وقف ہے ۔
۲۔ یہ وقف پول اللہ تعالی کی ملکیت ہوگا کوئی اور مالک نہیں ہوگا یعنی نہ کمپنی مالک ہو گی اور نہ کوئی اور اس کا ایک مستقل معنوی وجود ہو گا جو کہ شخص حقیقی کی طرح مالک اور مملک بنے گا۔
۳۔ جو لوگ عمرہ کی سہولت حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک خاص مقدار میں حسبِ شرائط وقف نامہ فنڈ کو چندہ دیں گے۔
۴۔ شرکاء جو چندہ دیں گے وہ وقف نہیں ہو گا ،بلکہ مملوک وقف ہوگا، لہذا اس کو وقف کے اغراض کے لئے خرچ کرنا جائز ہوگا۔
۵۔ مذکور فنڈ کو شرعی طریقہ کے مطابق کاروبار میں لگایا جائے گا اور حاصل شدہ منافع کا مالک فنڈ ہی ہوگا۔
۶۔ وقف سے استفادہ کرنے کی شرائط طے کی جائیگی۔
۷۔ فنڈ سے شرکاء کو جو فوائد ملیں گے وہ ان کے تبرعات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ وہ عطاء مستقل ہونگے یعنی اس لحاظ سے کہ وہ بھی موقوف علیهم ( موقوف علیہ اس شخص کو کہتے ہیں جس پر وقف کیا گیا ہو) میں داخل ہیں۔
۸۔ وقف فنڈ چونکہ تمام رقوم خواہ اصل ہوں یا منافع ہوں کا مالک ہے اس فنڈ کو اختیار ہے کہ وہ اس کو جس طرح خرچ کرنا چاہے خرچ کرے۔
۹۔ تحلیل Binding upکی صورت میں تمام اخراجات ادا کر کے باقی ماندہ رقم کسی کار خیر میں لگایا جائے گا ، البتہ جو اصل وقف رقم تھی وہ اس جیسے کسی اور وقف میں دی جائیگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

وقال الله تعالى: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (أما) الأول فهو أن لا يكون معلقا بما له خطر الوجود والعدم من دخول زيد وقدوم خالد والرقبى ونحو ذلك ولا مضافا إلى وقت بأن يقول وهبت هذا الشيء منك غدا أو رأس شهر كذا لأن الهبة تمليك العين للحال وأنه لا يحتمل التعليق بالخطر والإضافة إلى الوقت كالبيع. اھ (6/ 118)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: روى ابن عباس وابن سيدنا عمر - رضي الله عنهم - وروي عن مجاهد وسعيد بن جبير والشعبي وغيرهم - رضي الله عنهم - أنهم قالوا الميسر القمار كله حتى الجوز الذي يلعب به الصبيان اھ (5/ 127)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 84351کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مکان وقف کرنے کی صورت میں پڑوسی شفعہ کرسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • مسجد کا پانی گھر میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   وقف 3
  • مرحوم کے وقف کرنے کے بعد ورثاء کاموقوفہ زمین پر قبضہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • اہلِ میت کے لیے کمیٹی کی شکل میں کھانے پینے کا انتظام کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • واقف کا مقرر کردہ متولی اور مہتمم کو تبدیل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   وقف 2
  • محکمہ اوقاف کو دی ہوئی زمین میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد کی وقف جگہ میں خرید و فروخت کے لئے اسٹال لگانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ٹرسٹ کو کون کون سی مد کی رقم دے سکتے ہیں

    یونیکوڈ   وقف 0
  • زانی شخص کے بنائے ہوئے مسجد میں نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • عیدگاہ کی جگہ پر مدرسہ بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • بے اولاد خاتون کا اپنا مکان ٹرسٹ کو دینے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد بننے کے بعد اسے فروخت کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد کی رقم کاوربار میں لگانا

    یونیکوڈ   وقف 1
  • ایک مسجد کے غیر آباد ہونے کے بعد اس کی اشیاء کو دوسری نئی مسجد میں صرف کرنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مدرسے کی وقف زمین کو فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • عیدگاہ کے لیے وقف شدہ زمین میں اسی سال بعد پوتے کے لئے وراثت کا دعویٰ کرنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • اکھاڑہ کے لئے وقف کی گئی زمین کو مسجد کا حصہ بنانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ایک مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں خرچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • میت کمیٹی سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • قبرستان سے سبز گھاس کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مدرسہ سے لیا گیا قرض واپس ادا کرنے کیلئے مدرسہ پر زمین فروخت کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مہتمم کا مدرسہ کی رقم اور اشیاء ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • موقوفہ مسجد منہدم کرکے پارک بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • کیا بلڈنگ کے نیچے مسجد بنانا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   وقف 1
  • مسجد کی بجلی سے موبائل ری چارج کرکے باکس میں کچھ رقم ڈالنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
Related Topics متعلقه موضوعات