کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین بھائیوں کو والد صاحب نے اپنی حیات میں ان کی ملکیت میں زمین تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک بھائی کو ان کے حصہ پر قبضہ دے دیا تھا، ان کے انتقال کرنے کے بعد بڑے بھائی نے میری زمین پر قابض ہونے کے لئے مجھے تنگ کر نا شروع کردیا، جس کی وجہ سے میں اپنے اہل خانہ کو لے کر کراچی چلا آیا، میرے بچوں کے بڑے ہو جانے کے بعد میں نے ان سے زمین کا مطالبہ کیا ،تو وہ ان کے نہ ماننے پر ہم گھر والوں نے یہ مشورہ کیا کہ شاید ان کو اس زمین کا مدرسہ کے لئے میری طرف سے وقف کرنے کا کہہ دیا جائے کہ میں اس کو فروخت کر کے مدرسہ بنانا چاہتا ہوں،باقاعدہ وقف نہیں کی ،تو وہ زمین ہمارے لئے چھوڑے ، لیکن وہ تب بھی نہ مانے ، جس کی وجہ سے ہم نے عدالت میں کیس دائر کر دیا، اور فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا، فیصلہ ہمارے حق میں آنے کے بعد میرے دل میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ اس زمین کو حقیقت ہی مدرسہ کے لئے وقف کر دیا جائے ، جب میں نے اس خیال کا اظہار اپنے اہل خانہ بچوں سے کیا تو انہوں نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کر دیا، لہذا اب سوال یہ ہے کہ ہم نے جو بڑے بھائی سے قبضہ چھڑانے کے لئے ان کے سامنے وقف کا کہا تھا ، اور اب میرے دل میں وقف کرنے کا خیال ابھرا، جس پر اہل خانہ راضی نہیں، تو اس سے مذکور زمین وقف ہو گئی ہے یا نہیں؟ آیا اب مذکور زمین میری ملکیت شمار ہو گی ؟
سائل کا مذ کور جملہ ’’کہ میں اس زمین کو فروخت کر کے مدرسہ بنانا چاہتا ہوں “ سے سائل کی زمین وقف نہیں ہوئی ، اب بھی یہ زمین بد ستور سائل کی ملکیت میں برقرار ہے، لہذا سائل اس میں اپنی مرضی سے جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، چنانچہ وہ باہمی مشورہ سے مذکور زمین کو مدرسہ کے لیے وقف بھی کر سکتا ہے ، لیکن وقف نہ کرنے کی صورت میں کوئی گناہ بھی نہیں ہو گا۔
کما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ولو قال إن كانت هذه الأرض في ملكي فهي صدقة موقوفة، فإن كانت في ملكه وقت التكلم صح الوقف وإلا فلا اھ (4/ 341)۔
و في الدر المختار : (ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز و في غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ابن كمال اھ (4/ 348)
وفيه ايضاً : (وأن يكون) قربة في ذاته معلوما (منجزا) لا معلقا إلا بكائن، ولا مضافا، ولا موقتا اھ (4/ 341)۔
و في الفتاوى الهندية: متى صح الوقف بأن قال جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي (إلى قوله) ولو أن رجلا قال إن كانت هذه الدار في ملكي فهي صدقة موقوفة فإنه ينظر إن كانت في ملكه وقت التكلم صح الوقف لأن التعليق بشرط كائن تنجيز كذا في فتاوى قاضي خان اھ (2/ 352، 355)۔
وفيه ايضاً : ولو وقفها قبل أن يقبضها لا يجوز كذا في المحيط (إلی قوله) ومنها أن يكون منجزا غير معلق فلو قال إن قدم ولدي فداري صدقة موقوفة على المساكين فجاء ولده لا تصير وقفا كذا في فتح القدير اھ (2/ 355) والله اعلم بالصواب