بسم الله الرحمن الرحيم
مفتی صاحب، جامعة بنورية عالمية۔ کراچی، پاکستان۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محترم مفتی صاحب، میں اس وقت ایک مدرسہ کا مدرس ہوں، اور وقتاً فوقتاً اپنی ضرورت یا مہمان نوازی کے لیے مدرسہ کے بورڈنگ ہاؤس سے پیاز، مرچ، تیل وغیرہ لیتا ہوں۔ اور مدارس کے مہتمم صاحب نے ان کو لینے کی اجازت مدرسین کو دی ہے۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد یا طالب علم مدرسہ کے مہتمم صاحب کی اجازت سے بورڈنگ ہاؤس سے پیاز، مرچ یا تیل وغیرہ کھا لے تو کیا شریعت کی نظر میں جائز ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر چندہ دہندگان کی طرف سے صرف طلبہ کو کھانا کھلانے کی صراحت ہو یا راشن وغیرہ صدقاتِ واجبہ یا زکاۃ کی مد میں ہو اور اساتذہ کرام مستحقِ زکاۃ نہ ہوں اور تملیک کی کوئی صورت بھی اختیار نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں سوال میں مذکور اشیاء مثلاًپیاز،مرچ وغیرہ طلبہ کے علاوہ کسی اور کےلئے استعمال کرنا جائز نہ ہوگا،البتہ اگر چندہ دہندگان نے مدرسہ انتظامیہ کی صوابدید پر کھلانے کی اجازت دی ہو اور مدرسہ انتظامیہ کی طرف سے اساتذہ کو بھی کھانے کی اجازت ہو تو ایسی صورت میں بقدر ضرورت سائل کے لئے مذکورہ اشیاء استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہوگی۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (2/ 345):
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره۔۔۔وقدمنا لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» :
«رجل دفع إلى رجل عشرة دراهم أو مائة من من حنطة، وقال ادفع إلى فلان الفقير فدفع إلى غيره في الحاوي أنه يضمن، وقال ظهير الدين - رحمه الله تعالى -: لا يضمن؛ لأن المقصود ابتغاء مرضات الله تعالى وقد وجد في حق فقير، كذا في التتارخانية.»(باب في الصدقة،ج:4،ص:408)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي»:
«فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء ولو كان الوضع في كلهم قربة،»(ص:343،ج:4)