کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماء دین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ میرا تعلق ضلع تھر پار کر سے ہے، ہمارے ہاں چند مسائل ہے جو زمانہ دراز سے چلے آرہے ہیں ،اور مسلمان ان کو ثواب سمجھ کر بڑی اہمیت کے ساتھ کرتے ہیں۔
۱:نماز جنازہ کے بعد اسی جگہ کھڑے کھڑے میت کے واسطے دعا کرتے ہیں، چند عرصہ قبل ہمارے ایک مولوی صاحب عالم بن کر آئے، تو انہوں نے لوگوں کو منع کیا اور سمجھایا کہ جنازہ خود ہی ایک دعا ہے، اس کے بعد دوبارہ دعا کرنا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین سے ثابت نہیں، لہذا اسے چھوڑ دینا چاہیے، اکثر لوگ تو سمجھ گئے اور مان گئے ، لیکن چند فتنہ باز لوگوں نے اس کو بہت اچھالا کہ لوجی نئے مولوی صاحب آگئے ،یہ ہم کو دعا سے روکتے ہیں، حالانکہ دعا عبادت ہے ،یہ مولوی وہابی ہے،ان کے پیچھے مت چلو ،ورنہ یہ ہمارا دین خراب کر دے گا، برائے کرم ہمیں سمجھا دیجئے کہ یہ چیز ہمارے نبی ﷺ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے یا نہیں؟، نیز قرآن واحادیث کی روشنی میں سمجھائیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟
۲: جب ہمارے ہاں فوتگی ہو جائے ،تو تعزیت کے لئے آنے والے کے منہ میں پان، نسوار، گھٹکہ وغیرہ ہوتا ہے پاکی ناپاکی کا کچھ پتہ نہیں، بس آتے ہی تھوڑی دیر میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے ، اور ہونٹ ہلا کر چلا جاتا ہے، اس میں اس بات کی تمیز نہیں کی جاتی کہ کوئی بوڑھا، ضعیف، کمز ور لیٹا ہوا ہے، یا کسی کام میں مصروف ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی آیا ہے اور دعا ہو رہی ہے تو وہ بھی فورا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا شروع کر دیتا ہے، اور وہاں موجود شخص اس میں شرکت کو لازم سمجھتا ہے، دعا کیا ہوتی ہے صرف ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں، ایک عالم ان کی تعزیت کے لئے گیا ،تو اس نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تعزیت تسلی دینے کا نام ہے نہ کسی کو تکلیف دینے کا، یہ کیا ہے کہ جو بھی آتا ہے ہاتھ اٹھا کر ہونٹ ہلانا شروع کر دیتا ہے اور ہر ایک کو اس میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے، باقی مسئلہ رہا ایصالِ ثواب کا تو اس سے انکار نہیں، وہ دل سے بھی ہو سکتا ہے ، لیکن یہ مخصوص طریقہ ہمارے ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے،ہمیں اسے ختم کرنا چاہیے اور یہاں بھی جو لوگ اچھی طبیعت کے تھے وہ تو مان گئے اور سمجھ گئے، لیکن کچھ لوگ جن کو داڑھی ٹوپی کے نام سے بغض ہے ،اور گویا داڑھی ٹوپی ان کے لئے نعوذ باللہ ایک عار ہے، انہوں نے اس پر بہت کیچڑ اچھالا اور علماء کی شان میں بہت بکواسات کیے، اور العیاذ باللہ داڑھی جیسی سنت کے بارے میں بھی بہت سخت جملے کہے ، اور لوگوں کے دلوں سے علماء حق کی عظمت نکالنے کی مذموم کوشش کی ،جس کی وجہ سے سادہ لوح مسلمان اور کمزور ایمان والے لوگ ان کی باتوں میں آکر علماء کرام سے نفرت کرنے لگے۔
۱:تعزیت کا سنت طریقہ کیا ہے ؟
۳: جو لوگ اس طرح جان بوجھ کر علی الاعلان اپنی مجلسوں میں دین کی اور علماء کی مخالفت کرے اور داڑھی ٹوپی کو مذاق کا میدان بنائے اور عوام کو علماء سے الگ کرنے کی کوشش کریں ان کا کیا حکم ہے؟
۳: کیا بقیہ مسلمانوں کو ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنا چاہیے کہ نہیں؟ نیز ایسے لوگوں کے شر سے مسلمانوں کو کیسے بچایا جائے ؟ جواب عنایت فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں۔
۱:نماز جنازہ میت کے حق میں خود ایک دعا ہے، اس کے فوراً بعد الگ سے اجتماعی صورت میں دعا کرنا آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں، بلکہ بعد کے لوگوں نے ایجاد کیا، اور اس کو لازم سمجھ لیا اور نہ کرنے والوں پر نکیر کرنا شروع کر دیا، لہذا یہ عمل بلاشبہ بدعت ہے، جس کا ترک لازم ہے۔
۲: تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اہل میت کو تسلی اور صبر کے الفاظ کے ساتھ میت کی مغفرت کے لیے اور بلندی درجات کے لیے دعائیہ کلمات ’’فان لله ما اخذ وله ما اعطی ، وکل شیء عنده إلی أجل مسمی اعظم اللہ أجرك وأحسن عزاك و غفر لمیتك‘‘ کہے جائیں ، اور احادیث مبارکہ میں تعزیت کے متعلق فضائل وارد ہوئے ہیں، لہذا اگر کوئی شخص فوتگی کے تین دن بعد تک میت کے عزیز واقارب سے ان کے گھر یا ڈھیرے وغیرہ پر یا جہاں میت کے اہل خانہ، آنے والےلوگوں کی سہولت کے لیے بیٹھے ہوں ، تعزیت کرے تو یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے ، اور آنے والوں کو چاہئے کہ اسے بھی موت کی فکر ہو، اور آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے آئے ، البتہ اگر کوئی میت کے لیے دعاء کی درخواست کرے تو اس میں حرج نہیں، مگر ہر آنے والے کا دعا کرانا اور تمام حاضرین مجلس کو شامل کرنا بھی کوئی ضروری نہیں، تاہم اگرکوئی شخص اس کے ساتھ دعا میں شامل ہو جائے ،تو اس کی گنجائش ہے، مگر اس کو لازم نہ سمجھا جائے ، جبکہ تعزیت تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد تعزیت کرنا مکروہ ہے ، الا یہ کہ کوئی شخص سفر وغیرہ کی وجہ سے موجود نہ ہو تو وہ تین دن کے بعد بھی تعزیت کر سکتا ہے۔
جو لوگ داڑھی کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے، اگر وہ واقعۃً سنت کا استخفاف کرتے ہوں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں، ان پر لازم ہے کہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح کریں اور آئندہ کے لئے اس طرح کے اعمال سے مکمل اجتناب کریں، جبکہ علماء کی توہین اور صلحاء کی وضع قطع پر اعتراض اور تمسخر بھی خطر ناک عمل ہے اگر چہ اس سے آدمی کافر نہیں ہوتا، مگر فاسق و فاجر ضرور ہوتا ہے، ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ اپنی اصلاح کی فکر کریں اور جب تک ایسے لوگ تو بہ نہ کریں دیگر لوگوں کو ان کی مجالس میں شریک نہیں ہونا چاہیئے۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: تحت هذا الحديث: وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «ما من مسلم يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر» ") . ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة اھ (3/ 1213)۔
و في البزازية : لا يقوم بالدعاء بعد صلاة الجنازة لأنه دعا مرة لأن أكثرها دعاء اھ (۱/ ۸۰) ۔
وفى الفتاوى الهندية: كره أن يقوم رجل بعد ما اجتمع القوم للصلاة ويدعو للميت ويرفع صوته وكره ما كان عليه أهل الجاهلية من الإفراط في مدح الميت عند جنازته حتى كانوا يذكرون ما هو يشبه المحال وأصل الثناء على الميت ليس بمكروه وإنما المكروه مجاوزة الحد بما ليس فيه كذا في الذخيرة رجل تصدق عن الميت ودعا له يجوز ويصل إلى الميت كذا في خزانة الفتاوى والله أعلم اھ (5/ 319)۔
كما في سنن الترمذي: عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا فعلت أمتي خمس عشرة خصلة حل بها البلاء» فقيل: وما هن يا رسول الله؟ قال: «إذا كان المغنم دولا، والأمانة مغنما، والزكاة مغرما، وأطاع الرجل زوجته، وعق أمه، وبر صديقه، وجفا أباه، وارتفعت الأصوات في المساجد، وكان زعيم القوم أرذلهم، وأكرم الرجل مخافة شره، وشربت الخمور، ولبس الحرير، واتخذت القينات والمعازف، ولعن آخر هذه الأمة أولها، فليرتقبوا عند ذلك ريحا حمراء أو خسفا ومسخا» (4/ 494)۔
و في سنن ابن ماجه: قال: حدثنا أبو هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو يقول: «الدنيا ملعونة، ملعون ما فيها، إلا ذكر الله، وما والاه، أو عالما، أو متعلما» (2/ 1377)۔
وفى الفتاوى الهندية: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر ووجه واحد يمنع فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير فهو مسلم وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط اھ (2/ 283) واللہ اعلم بالصواب
و في خلاصة الفتاوى: لا يقوم الدعاء بعد صلاة الجنازة (الى قوله) ولا يقوم بالدعاء في قراءة القرآن لأجل الميت بعد صلاة الجنازة وقبلها اهـ (۱/ ۲۲۵)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فقد صرحوا عن آخرهم بأن صلاة الجنازة هي الدعاء للميت إذ هو المقصود منها. اهـ. (2/ 210)۔
و في فتاوى سراجية: ليس في صلاة الجنازة دعاء موقت اذا فرغ من الصلاة لا يقوم بالدعاء اھ (ص: ۲۳)۔
و في سنن الترمذي: عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من عزى مصابا فله مثل أجره» (3/ 377)۔
و في مصنف عبد الرزاق الصنعاني: 6071 - عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعزي المسلمين في مصايبهم " (3/ 395)۔
وفى الفتاوى الهندية: التعزية لصاحب المصيبة حسن كذا في الظهيرية وروى الحسن بن زياد إذا عزى أهل الميت مرة فلا ينبغي أن يعزيه مرة أخرى كذا في المضمرات ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت التعزية ويستحب أن يعم بالتعزية جميع أقارب الميت الكبار والصغار والرجال والنساء إلا أن يكون امرأة شابة فلا يعزيها إلا محارمها كذا في السراج الوهاج ويستحب أن يقال لصاحب التعزية غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه وتغمده برحمته ورزقك الصبر على مصيبته وآجرك على موته كذا في المضمرات ناقلا عن الحجة وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى اھ (1/ 167)۔