السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت حج کے لئے گئی، لیکن ایامِ حج میں اس کے ماہواری کے ایام شروع ہو گئے،اب اس نے حج کے باقی ارکان تو پورے کر لیے ، لیکن طوافِ زیارت ادا کرنے سے قاصر رہی، اور اس کی واپسی کی فلائٹ کی تاریخ 15 ذی الحجہ ہے، اور اس کے ماہواری کے ایام 18 ذی الحجہ کو ختم ہو رہے ہیں، اب اس کے لئے کیا حکم ہو گا ؟ کیونکہ وہ ٹھہر نہیں سکتی، محرم کی عدم موجودگی کی وجہ سے، یا کسی اور عوارض کی بناء پر ؟ برائے مہربانی اس مسئلہ پر روشنی ڈال کر تسلی بخش جواب عنایت فرمائے ۔ فقط جزاکم اللہ خیراً!
کسی ایسی مجبوری کی صورت میں جب عورت کے لئے وہاں مزید ٹھہرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو تو بوجہِ مجبوری عورت حالت حیض ہی میں طواف زیارت ادا کر لے ، اور حدودِ حرم میں ایک بدنہ (اونٹ یا گائے) ذبح کرے، اور اس کے ساتھ حیض کی حالت میں طواف کرنے پر تو بہ واستغفار بھی کرے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): نقل بعض المحشين عن منسك ابن أمير حاج: لو هم الركب على القفول ولم تطهر فاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا يقال لها لا يحل لك دخول المسجد وإن دخلت وطفت أثمت وصح طوافك وعليك ذبح بدنة وهذه مسألة كثيرة الوقوع يتحير فيها النساء. اه (2/ 519)۔