جو لوگ مغربی ممالک یا کینیڈا امریکا میں اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں، یہاں پر پیسے جمع کر کے ذاتی مکان خریدنا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ ان کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ مطلوبہ رقم ایک عام آدمی شائد ساری زندگی نہ جمع کر پائے ، اسی وجہ سے شائد یہاں یہ طریقہ رائج ہے کہ بجائے کرائے کے گھر میں رہنے کے لوگ بینک سے ادھار رقم لیکر گھر خرید لیتے ہیں، اور جو رقم کرائے کی مد میں ماہانہ دینی ہوتی ہے تقریباً اتنی ہی رقم بینک کی قسط میں ماہانہ ادا کر دیتے ہیں ، اس طرح 20 سے 25 سالوں میں آپ ایک مکان کے مالک بن سکتے ہیں، جبکہ کرایہ ساری زندگی بھی ادا کرتے رہیں تو آپ مالک نہیں بن سکتے ، کیونکہ بینک کا سارا نظام سود پر مشتمل ہے ، لہذا بینک جور قم آپ کو دیتا ہے وہ آپ سے سود سمیت واپس لیتا ہے ، کیا امریکا اور دوسرے مغربی ممالک میں رہنے والوں کے لئے کوئی گنجائش کی صورت نکل سکتی ہے کہ وہ بینک سے قرضہ لیکر اپنا ذاتی مکان خرید لیں؟ یا وہ ساری زندگی کرایہ کے گھر تک محدود رہیں؟ برائے مہربانی میری اس مشکل کا حل بتاکر شکریہ کا موقع دیں ؟ ( ظفر اقبال چیمہ )
غیر مسلم ممالک میں بھی بینک یاکسی مالیاتی ادارے سے سودی قرض لینا جائز نہیں، تاہم اگر گھر خریدنے میں واقعہ اتنی مشکلات ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو بینک کے ذریعہ گھر خریدنے کی یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ بینک کا کوئی نمائندہ پہلے گھر خرید کر اپنے قبضہ میں لے لے، پھر اس کی اصل قیمت اور اس پر انٹر سوٹ کے نام سے جو منافع بینک لیتا ہے ان کو ملا کر مکان کی قیمت شمار کر کے گھر کلائنٹ کو قسطوں پر فروخت کرے اور جو رقم بنے، کلائنٹ اس کے اعتبار سے اول سے آخر تک قسطیں ادا کرے، گویا کہ گھر کی مجموعی قیمت یہی ہے تو یہ صورت اختیار کرنے سے سود سے بھی بچ جائے گا اور گھر کا مالک بھی بن جائے گا۔
کما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ. (5/ 166) والله اعلم بالصواب
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0