اگر کوئی خریدار ایک مشت ادائیگی پر قادر نہ ہو تو کیا اس کے لیے یہ صحیح ہے کہ وہ کوئی ساز وسامان یا گاڑی کسی دفتری کام کے لیے خریدے؟ اگر ہمارے آفس کے اکاونٹ غیر اسلامی بینک میں ہیں جس میں سود کا دخل بھی ہوتا ہے اور ہماری تنخواہیں بینک کے اکاؤنٹ میں آتی ہوں تو کیا ہم پر اس کے لینے سے گناہ ہوگا؟ یا ہمارے ماتحت یا سینئر (بڑے) جن کے ہاتھ میں یہ سب ہے یا آفس کمیٹی پہ گناہ جائیگا، نیز تنخواہ تو حلال ہی رہےگی؟ رہنمائی فرمائیں ۔
دفتر کے لیے سامان اور گاڑی خریدنا تو بلاشبہ جائز ہے مگر اس کی خریداری کی جو صورت ہو اسے تفصیل کے ساتھ لکھ کر ای میل کردیا جائے تو ان شاءاللہ حکم شرعی بھی بیان کردیا جائےگا۔
اس صورت میں بھی سائل کی تنخواہ حلال ہے جبکہ سودی اکاونٹ کھلوانے کا گناہ کمپنی مالکان کے سر ہوگا۔
کما فی صحیح مسلم:لعن رسول اللہ ﷺ أکل الرباء وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء (2/27)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0