میرا نام محمد اقبال ہے، میری عمر ۸۰ سال ہے، ۳۵ سال سے میں ایک پرائیویٹ فیکٹری میں کام کر رہا ہوں، میری تنخواہ (۱۴۰۰۰) ماہانہ ہے، میرے گھر میں چار افراد تھے، میں میری بیوی، میری بیٹی (غیر شادہ) میرا بیٹا، ہمارا گھر سرجانی ٹاؤن میں ہے، ہمارا گھر کمزور حالت میں تھا، اس وجہ سے اس مکان کو نئے سرے سے بنانے کے لئے میرے کہنے پر میرے لڑکے نے بینک سے قرضہ لے لیا، میرا لڑکا بینک میں کام کرتا تھا، تین ماہ کے بعد قرضہ کی قسط شروع ہوئی تھی، مگر قرضہ لینے کے ایک ماہ بعد میرے لڑکے کا انتقال ہو گیا، بینک نے قرضہ معاف کر دیا، اس کے علاوہ بینک نے اپنے اصول کے مطابق ۲۰ لاکھ بھی دیا۔
حکومت نے بیوہ عورتوں اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے آدمی کے لئے بہبود سرٹیفکیٹ کا کاروبار تیار کیا ہے، ایک لاکھ پر ۱۲۰۰ روپے منافع دیتے ہیں، میرے گھر کا خرچہ میرے لڑکے کی تنخواہ ملا کر چلتا تھا، اب لڑکے کی تنخواہ نہیں ہے، گھر کی ذمہ داری مجھ پر ہے، میری صحت کب تک مجھے نوکری کرنے کی اجازت دے گی، تاکہ گھر کی ذمہ داری میں ادا کر سکوں ، مجھے ماہانہ رقم ملےگی۔
ہر بینک یا حکومت کا ادارہ جو کاروبار کرتا ہے، اس میں نفع نقصان ہوتا ہے، انویسمنٹ کرنے والے آدمی کو کاروبار میں ہونے والے پروفٹ سے کم پروفٹ دیا جاتا ہے، اس کے بدلے میں حکومت کا ادارہ یا بینک کاروبار میں ہونے والے نقصان سے انوسٹرز کو محفوظ رکھتا ہے۔
میزان بینک یا حبیب بینک یا کوئی بھی بینک انوسٹر کو کم وبیش ایک ہی منافع دیتے ہیں، ایک لاکھ پر ۸۰۰ روپے۔ حکومت کا ادارہ نیشنل ڈیفنس سیونک سرٹیفکیٹ نے بہبود سرٹیفکیٹ صرف مخصوص مستحق افراد کے لئے بنائے ہیں اور بشمول ٹیکس معاف کر دیا ہے۔ اس وجہ سے منافع زیادہ ہے، کسی بھی بینک سے زیادہ ہے، کیونکہ بینک ود ہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیتے ہیں، اس لئے منافع کم ہو جاتا ہے۔ سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تمہارے اعمال کا دارومدار تمہاری نیت پر ہے، میری نیت میری خواہش میرا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منافی نہیں ہے۔
سوال نمبر۱۔ سوال یہ ہے کہ میں نے جو رقم انویسٹ کی ہے اس پر جو منافع مجھے ملے گا وہ جائز ہے یا نہیں؟ مجھے کسی تجارت کا تجربہ نہیں ہے، نہ ہی میری عمر ، نہ ہی میری صحت اس لائق ہے کہ میں کوئی کام کروں میری بیٹی کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ میرے لڑکے کا انتقال بینک سے قرضہ لینے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور وہ ڈری ہوئی ہے۔ ہم سب نے بہت کوشش کی تھی کہ کسی سے رقم ادھار مل جائے، مگر اتنی بڑی رقم کون ادھار دیتا ہے، ہمارا ارادہ ہمارا شوق بینک سے قرض لینے کا نہیں تھا، مگر مجبوری تھی، کہ ہمیں قرض لینا پڑا۔
سوال نمبر۲۔ کیا میرے لڑکے کا انتقال قرض لینے کی وجہ سے ہوا ہے؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ قرض لینے کی وجہ سے ہوا ہے۔
سوال نمبر ۳۔ پچھلے ۸، ۱۰ سال سے میں زکاۃ لے رہا ہوں، ہم سب کے کھانے کا خرچہ پورا نہیں ہوتا تھا، اس وجہ سے میں زکاۃ لے رہا تھا۔ ہمارے ایک رشتہ دار صاحب حیثیت ہیں وہ مجھے زکاۃ دیتے تھے، اب کیونکہ بینک سے ایک معقول رقم مجھے مل گئی ہے۔ جو کہ میں نے نیشنل ڈیفنس سیونک سرٹیفکیٹ کے کاروبار میں نے لگا دی ہے۔ اب زکاۃ کا مستحق نہیں رہا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مجھے پروفٹ ماہانہ ملےگا۔ وہ ایک سال کے بعد اس پر زکاۃ لگے گی یا کل رقم پر جو میں نے سرٹیفکیٹ خریدنے میں صرف کی ہے۔ یا یوں کہیے کہ جو رقم میں نے کاروبار میں، میں نے 20 لاکھ روپیہ کے certificate خرید لئے ہیں، جس پے حکومت مجھے ہر ماہ 24 ہزار روپیہ دے گی ،اس ماہانہ منافع سے گھر کا خرچ چلانے میں مجھے مدد ملے گی، سال میں کچھ رقم بچ بھی جائے گی، جو رقم خرچہ میں نہیں آئی بچ گئی ہو گی اس پر زکاۃ دینا ہو گی یا 20 لاکھ پر دینی ہو گی ؟
(1) سب سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ خلافِ شرع کام خواہ کسی بھی نیت سے کیا جائے ،وہ اللہ کی نافرمانی ہی شمار ہوتی ہے ، اس کے بعد واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق گورنمنٹ کی بہبود سرٹیفکیٹ اسکیم بھی سودی معاملات سے خالی نہیں ، اس لئے بہبود سرٹیفکیٹ سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی اپنے استعمال میں لانے سے احتراز لازم ہے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ مذکور سرٹیفکیٹ لے کر منافع حاصل کرنے کے بجائے رقم کسی جائز کاروبار میں لگائے، اور اگر یہ کسی وجہ سے سائل کے لئے ممکن نہ ہو، تو مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی اپنے معاملات سر انجام دینے والے کسی اسلامی بینک میں رقم لگا کر نفع حاصل کرتا رہے ، اس سے سائل کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
(2): سائل کے بیٹے نے اگر سود پر قرض لیا ہو تو اس کی وجہ سے وہ اگر چہ گناہ گار ہوا ہے ، لیکن یہ کہنا کہ اس کی موت بینک سے قرض لینے کی وجہ سے ہوئی ہے درست نہیں ،جس سے احتراز چاہیئے۔
(3) :ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کی اصل رقم پر تو سال پورا ہونے پر زکوۃ لازم ہے، البتہ اس پر جو اضافی رقم ملتی ہے ، اس کو چونکہ اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ، اس لئے اس رقم کی زکوۃ دینے کے بجائے ساری کی ساری رقم بلانیتِ ثواب مستحقِ زکوۃ لوگوں پر صرف کرنا لازم ہے، تاہم اگر آئندہ کے لئے سائل نے مذکور رقم کسی حلال تجارت میں لگالی تو ایسی صورت میں سال پورا ہونے پر اصل رقم سمیت منافع پر بھی زکوۃ لازم ہوگی۔
قال الله تبارك وتعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
قال الله تبارك وتعالي: {أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ } [النساء: 78]
و في مسند أحمد: عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «هذا ابن آدم، وهاهنا أجله، وثم أمله» (19/ 431)۔
كما في التاتارخانية: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا بلغ نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول الخ (۲/212)۔
و في الدر المختار : (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) اھ (2/ 259)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: نسبة للحول) أي الحول القمري لا الشمسي كما سيأتي متنا قبيل زكاة المال (قوله: لحولانه عليه) أي لأن حولان الحول على النصاب شرط لكونه سببا اھ (2/ 259)۔