ایک شخص جو ریٹائرڈ ہے، پینشن دوہزار ہے، کمپنی سے پانچ لاکھ روپے ملے ہیں، بوڑھا اور معذور بھی ہے ،اس کے علاوہ کوئی آمدنی نہیں، اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے 5 لاکھ روپے کہا ں لگائے، آج کل کسی پر بھی بروسہ نہیں ، قومی بچت کا ادارہ پنشنز کو ایک لاکھ پر 1250 روپے دیتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اگر صحیح نہیں ہے تو پھر کیا کرے؟
مذکور ادارہ کے تحت انویسٹمنٹ کر کے نفع حاصل کرنا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اسلامی بینکاری سے منسلک اداروں سے معلومات لیکر ان کے طریقہ کار کا حکم شرعی معلوم کرکے اس کے موافق عمل کر سکتے ہیں، اور اگر سائل خود اس رقم سے مکان یا دکان وغیرہ خرید کر اسے کرایہ پر دیدے اور اس کرایہ کو اپنی ضروریات میں لگادے تو اس کا عمل زیادہ بہتر ہے۔