معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آج سےتقریباً 40 سال پہلے مسجد کمیٹی والوں نے امام صاحب کو ایک دوکان کرائے پر دی تھی، کچھ دن پہلے امام صاحب نے وہ دوکان فروخت کی ہے، اس کے نام رسید کروا دی ، پر لاکھوں روپوں کی رقم امام صاحب کو جائز ہے یا نہیں قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔
مسجد کمیٹی والوں نے کچھ سال پہلے مسجد کی جگہ پر کچھ دوکانیں نکالیں جن لوگوں کو وہ جگہ جو دی ہے، اس کی تعمیر میں ان لوگوں نے اپنا پیسہ لگایا ہے وہ بھی وہ جگہ کو لاکھوں روپوں میں فروخت کر تے ہیں، وہ 10 فیصد کے حساب سے مسجد کمیٹی والوں کو دیتے ہیں، باقی رقم خود رکھتے ہیں، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
سوال میں امام صاحب کی رہائش کے لیے جس پلاٹ اور دیگر دوکانوں کا ذکر ہے، اگر یہ سب جگہ باضابطہ مسجد مذکور کےلیے وقف ہوچکی ہوں تو اس صورت میں مسجد کی انتظامیہ یا کسی دوسرے شخص کے لیے اس جگہ کو بیچ کر اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ ناجائز اور غصب کے حکم میں داخل ہے، جس سے احتراز لازم ہے، لہذا انتظامیہ کمیٹی پر لازم ہےکہ وہ اپنے مذکور ناجائز اور غیر شرعی رویہ سے مکمل احتراز کرے، اور اس طرح مسجد کی جو جگہ بیچی ہو اسے واپس مسجد کی ملکیت اور تصرف میں داخل کرے۔
کما فی الھندیة: و اذا صح الوقف لم یجز بیعہ ولاتملیکہ الا ان یکون مشاعاً الخ(2/240)۔
و فی الھندیة: وعندهما حبس العين فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية الخ (2/250)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، الخ (4/352)۔