حدیث میں آتا ہے غزوہ احزاب کے بعد بنو قریظہ کے مردوں کو قتل کے لئے ان کے زیرناف بال دیکھ کر حد( سزا) دی گئ تھی، میرا سوال یہ ہے کہ مسلمان مرد اور عورت کی بلوغت کے کیا ہم اس حدیث کی رو میں زیرِ ناف بالوں کو بلوغت کی نشانی سمجھیں گے ؟ اگر نہیں تو وجہ سمجھا دیجیے؟شکریہ
واضح ہوکہ بلوغت کی تعیین کے لیے شریعتِ مطہرہ نے چند علامات مقرر فرمائی ہیں جن میں بعض علامات اصل اور قوی ہیں، اور بعض ثانوی اور تبعی ہیں۔ فقہاءِ کرام کے نزدیک اصل علامات مرد کے حق میں احتلام (منی کا خارج ہونا) اور عورت کے حق میں حیض یا حمل ہیں۔ اگر یہ علامات ظاہر ہو جائیں تو بلا اختلاف وہ شخص اور عورت بالغ شمار ہوں گے۔
البتہ اگر اصل علامات ظاہر نہ ہوں توبوقت ضرورت ثانوی علامات کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے، جن میں زیرِ ناف بالوں کا اُگ آنا بھی شامل ہے۔ اسی بنا پر فقہاءِ احناف نے تصریح فرمائی ہے کہ" عانۃ "(زیرناف بال )کے بالوں کا ظاہر ہونا بلوغت کی علامت ِاصلی نہیں، بلکہ ثانوی ہے، یعنی اس پر اسی وقت اعتماد کیا جائے گا جب اصل علامات موجود نہ ہوں،اوربلوغت جانچنے کےلیےکوئی اورقابل اعتمادذریعہ اختیارکرناممکن نہ ہو۔
بنو قریظہ کے واقعے میں زیرِ ناف بالوں کو معیار بنانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ حالتِ جنگ اور اضطرار کا معاملہ تھا، وہاں افراد کی عمریں معلوم کرنے یا دیگر علامات جانچنے کا کوئی اور عملی ذریعہ میسر نہ تھا، اس لیے ایک ظاہری اور غالب علامت کو بنیاد بنا کر بالغ اورنابالغ میں فرق کیا گیا۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ شریعت نے ہر زمانے اور ہر حال میں بلوغت کا فیصلہ صرف اسی علامت پر موقوف کر دیا ہو۔
لہٰذا اس حدیث کو عمومی اور قطعی ضابطہ قرار دینا درست نہیں، بلکہ اسے ایک خاص واقعہ اور خاص ضرورت کے تحت سمجھا جائے گا۔ عام حالات میں بلوغت کے ثبوت کے لیے پہلے اصل علامات دیکھی جائیں گی، ان کے نہ پائے جانے کی صورت میں ثانوی علامات، اور اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو فقہاءِ احناف کے نزدیک پندرہ قمری سال کی عمر پوری ہونے پر شرعاً بلوغت کا حکم لگایاجائےگا۔
کما فی النسائی :أخبرنا إسمعيل بن مسعود قال حدثنا خالد قال حدثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن عطية أنه أخبره قال كنت في سبي قريظة وكان ينظر فمن خرج شعرته قتل ومن لم تخرج استحيي ولم يقتل الخ (کتاب قطع السارق،حد البلوغ وذكر السن الذي إذا بلغها الرجل والمرأة أقيم عليهما الحد،ص 1000،ط: بشری)۔
وفی إعلاء السنن قال العلامۃ العثمانی تحت قولہ: عن عطیۃ الخ: دلالتہ علی ما فیہ ظاھرۃ،ولا دلیل فیہ علی کون الانبات علامۃ للبلوغ،فإن مدار القتل علی دفع الفساد ،فمن یتوقع ذلک منہ جاز قتلہ منھم سواء کان بالغا او غیر بالغ،ویدل علی ان البلوغ غیر معتبر فی القتال ما فی ”الجوھر النقی“ عن سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ ﷺ یعرض غلمان الأنصار فی کل عام فیلحق من أدرک منھم فعرضت عاما فالحق غلاما وردنی فقلت: یا رسول اللہ ﷺ لقد ألحقتہ وردتنی ولو صارعتہ لصرعتہ، قال فصارعہ فصارعتہ فصرعتہ فألحقنی قال الحاکم: صحیح الإسناد اھ فالاجازۃ للقتال منوطۃ بإطاقتہ والقدرۃ علیہ، فمن کان من غلمان المسلمین مطیقا للقتال یجوز إلحاقہ بالمقاتلۃ بالغا کان او لا، وکذا من کان من غلمان الکفار مطیقاً لہ قادرا علیہ یجوز قتلہ،سواء کان بالغا او غیر بالغ فلم یثبت بحدیث عطیۃ کون الإنبات علامۃ للبلوغ بل کونہ علامۃ لإطلاقۃ القتال والقدرۃ علیہ الخ(باب من لا یجوز قتلہ فی الجھاد،ج 12،ص: 28، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
وفی بذل المجھود فی حل ابی داود: قال فکشفوا عانتی فوجدوھا لم تنبت فجعلونی فی السبی من النساء،والولدان،قال القاری:قال التوربشتی:وانما اعتبر الانبات فی حقہم مکان الضرورۃ اذ لو سئلوا عن الاحتلام او مبلغ سنھم لم یکونو یتحدثوا بالصدق اذا رأوا فیہ الھلاک الخ( باب فی الغلام یصیب الحد،ج 17،ص 177،رقم:4404،ط:قدیمی)
وفی الدر المختار: (بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا(وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنين) هو المختار كما في أحكام الصغار الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله: فإن لم يوجد فيهما) أي في الغلام والجارية شيء مما ذكر إلخ مفاده: أنه لا اعتبار لنبات العانة خلافا للشافعي، ورواية عن أبي يوسف، ولا اللحية، وأما نهود الثدي فذكر الحموي أنه لا يحكم به في ظاهر الرواية، وكذا ثقل الصوت كما في شرح النظم الهاملي أبو السعود وكذا شعر الساق والإبط والشارب. (فصل بلوغ الغلام بالاحتلام، ج 6،ص 153،ط: سعید)۔
وفی فتح القدیر: قال ( بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال إذا وطئ ، فإن لم يوجد ذلك فحتى يتم له ثماني عشرة سنة ، وبلوغ الجارية بالحيض والاحتلام والحبل ، فإن لم يوجد ذلك فحتى يتم لها سبع عشرة سنة ) ، وهذا عند أبي حنيفة وقالا : إذا تم الغلام والجارية خمس عشرة سنة فقد بلغا ، وهو رواية عن أبي حنيفة ، وهو قول الشافعي ، وعنه في الغلام تسع عشرة سنة (الی قولہ) وأدنى المدة لذلك في حق الغلام اثنتا عشرة سنة ، وفي حق الجارية تسع سنين الخ(فصل في حد البلوغ،ج 21،ص 29،ط: الفاروقية)۔