کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسمیٰ شیر محمد نے اپنی بہن مسماۃ ’’گلالی ‘‘کا نکاح مسمیٰ حاجی آغا محمد سے کرایا ’’ مسمی حاجی آغا محمد‘‘ کا انتقال ہو چکا ،اس سے مسماۃ گلالی کا ایک بیٹا ہے مسمیٰ ’’شیر محمد‘‘ نے اپنی بہن مسماۃ ’’گلالی ‘‘کو بیٹے سمیت گھر لے آیا ۔ مسمیٰ حاجی آغا محمدکی ایک اور بیوی تھی جس کا انتقال تقریبا 20 سال پہلے ہوا تھا ،اس سے مسمی حاجی آغا محمد کے تین بیٹے تھے۔ اب مسمیٰ حاجی آغا محمد کے ان تین بیٹوں کا کہنا ہے کہ مسمی حاجی آغا محمدکا وہ بیٹا جو مسماۃ ’’گلالی ‘‘سے ہے اس کے حق دار ہم ہیں، وہ ہمارے پاس رہیگا جبکہ مسماۃ ’’گلالی ‘‘کا بھائی مسمی شیر محمد کا کہنا ہے کہ میری بہن کا بیٹا میرے پاس رہےگا، یعنی اپنی ماں کے پاس رہےگا ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ لڑکا کس کے پاس رہےگا؟ اس کا حق دار کے زیادہ کون ہے ؟ جبکہ بچے کے دادا دادی اور نانا نانی پہلے فوت ہو چکے ہیں۔
نوٹ : واضح رہے کہ اس لڑکے نام پے ایک مکان ہے جس کی مالیت تقریباً 2 سے ڈھائی لاکھ تک ہے۔ اور یہ مکان لڑکے کے والد مرحوم نے اپنے مقروض ( ڈھائی لاکھ روپے تک قرضہ ہے) کے قرضیہ کے بدلہ میں گروی بنا کر رکھا ہے مقروض جب اپنا قرضہ ادا کرے گا تو اس کو اپنا گروی مکان دوبارہ دے گا۔ یہ رقم جو قرض سے حاصل ہو جائے کس کا حق ہے جبکہ والد مرحوم نے اپنے مذکور بیٹے بشیر احمد کے نام کر دیے تھے ؟
نوٹ ۔ بچے کی عمر سات سال ہے اور اس کا کوئی چچا بھی نہیں۔
گروی پر رکھا ہوا مکان امانت ہے اسے کسی بیٹے وغیرہ کے نام کر دینے سے وہ شرعاً اس کی ملک نہیں بنتا، بلکہ مرحوم کے قرضہ کی واپسی کی صورت میں واپس کر دیا جائے گا، جبکہ قرضہ کی صورت میں ملنے والی رقم تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص مشترک ہوگی جہاں تک مذکور بچے کی پرورش کا تعلق ہے اس کی پرورش کے سب سے زیادہ مقدار اس کے بھائی ہیں نہ کہ ماموں ۔
کما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: أن يكون مملوكاً للواهب: فلا تنفذ هبة مال الغير بغير إذنه، لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك اھ (5/ 3990)
و في الفتاوى الهندية: وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان ويمسكه هؤلاء إن كان غلاما إلى أن يدرك فبعد ذلك ينظر إن كان قد اجتمع رأيه وهو مأمون على نفسه يخلى سبيله فيذهب حيث شاء وإن كان غير مأمون على نفسه فالأب يضمه إلى نفسه ويوليه ولا نفقة عليه إلا إذا تطوع كذا في شرح الطحاوي اھ (1/ 542)