محترم مفتی صاحب! امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ براہِ کرم درج ذیل معاملے پر شرعی و عملی رہنمائی فرمائیں۔ صورتِ حال: کچھ کاروباری حضرات اپنی رقم بطورِ امانت ہمارے پاس دبئی میں رکھتے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی (افراطِ زر) سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔ وقت کے ساتھ ہمارے درمیان اعتماد اور دوستی بڑھی تو بعض معاملات میں زبانی طور پر یہ اجازت بھی مل گئی کہ ہم وہ رقم اپنے کاروبار میں استعمال کر سکتے ہیں۔ جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنی رقم واپس لے لیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ رقم ہمارے ذریعے خرید و فروخت میں بھی استعمال ہوتی ہے اور ہم ان کے لیے انتظامی امور بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ تمام امور ذاتی اعتماد اور زبانی رضامندی کی بنیاد پر ہیں ،کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں۔ سوالات براہِ رہنمائی: 1. کیا ہم اس رقم کو جو بطورِ امانت رکھی گئی تھی، قرض کی مانند استعمال کر سکتے ہیں؟ 2. کیا موجودہ طریقِ کار (زبانی اجازت و اعتماد پر رقم کا کاروبار میں استعمال) شرعی اعتبار سے درست ہے؟ 3. اگر یہ طریقہ درست نہیں تو براہِ کرم مناسب اور شرعی طور پر درست طریقہ کار بتا دیجئے، مثلاً کس طرح تحریری معاہدہ تیار کیا جائے، کن نکات کا خیال رکھا جائے، اور اگر ضرورت ہو تو کن شرائط کے تحت رقم کاروبار میں استعمال کی جا سکتی ہے۔
واضح ہوکہ مالِ امانت کے مالکان کی طرف سےاس کے استعمال کی اگر زبانی طور پر صریح یا دلالۃً اجازت ہو یاکسی جگہ امانت کے پیسوں کوذاتی یاکاروباری استعمال میں لانے کااس طرح عرف ہوچکاہوکہ امانت رکھنے اوررکھوانے والے دونوں کواس عرف کاعلم ہوتوایسی صورت میں امانت کے پیسوں کوذاتی استعمال یاکاروبارمیں لگانے کی شرعاً گنجائش ہوگی، لہذاصورتِ مسئولہ میں اگرسائل کے پاس امانت رکھوانے والے افرادنے زبانی طورپراستعمال کی اجازت دے رکھی ہویاسائل کااس رقم کواپنے کاروباری یاذاتی استعمال میں خرچ کرنے کاانھیں علم ہونے کے باوجوداس پرکوئی اعتراض نہ ہو توسائل کے لیے اس رقم کو استعمال کرنا شرعاً جائز ہے،تاہم اس طرح کرنے کے بعداس رقم کی حیثیت امانت کی بجائے قرض کی ہوجائے گی ، لہٰذا اگر کسی موقع پریہ رقم تلف ہوگئی ہو، اگرچہ تعدی کے بغیرہویا کاروبار میں نقصان واقع ہوگیا تو سائل پر اس کا ضمان لازم ہوگا۔
کمافی الفتاوى الهندية: وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن الخ((الباب الاول فی تفسیر الایداع،ج:4،ص:338،ط:ماجدیۃ)۔
وفی مجلة الأحكام العدلية: الإذن دلالة كالإذن صراحة. بيد أنه عند وجود النهي صراحة لا اعتبار بالإذن دلالة الخ(المادۃ:772،ج:2،ص:220،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0