محترمی ومکرمی جناب حضرت مفتی صاحب ۔زادکم اللہ علماوعملا ۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
خداکرے آپ مع الخیر ہوں
خدمت میں عرض ہے کہ میں ایک معاملہ کو لیکر بہت دنوں سے کافی پریشان اور ذہنی الجھن میں رہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میری بستی میں کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ بستی یا محلے کا کوئی مرد یا عورت ،لڑکایالڑکی کبھی بیمار ہوتے ہیں یا ان پر کسی آسیب وغیرہ کا اثر ہوتا ہے اور کوئی ان کو جھاڑ پھونک کرتا ہے تو وہ غیر اختیاری طور پر میری والدہ یا اور کچھ عورتوں کا نام لیکر بار بار یہ کہتے ہیں کہ میں فلانی ہوں میں فلانی ہوں اور کچھ ایسی باتیں وہ کہتے ہیں جس سے بہت سے سننے والوں کو میری والدہ یا دیگر کچھ عورتوں پر ساحرہ ہونے کا اعتقاد و یقین ہونے لگتا ہے ، اس امرمیں بالخصوص میں اور میرے گھر والوں کے ساتھ لوگوں کے تعلقات بگڑتے رہتے ہیں اور میرے گھر والوں کی بڑی سبکی ہوتی ہے حالانکہ والدہ کا ہم گھر والوں نے بہت علاج و معالجہ جھاڑ پھونک کے ذریعے کروایا ہے لیکن تقریباً چالیس سال سے زائد عرصے سے اب تک مکمل فائدہ نہیں ہوا ہے وقفے وقفے سے یہ واقعہ پیش آہی جاتا ہے حتیٰ کہ میری بہنوں کے رشتوں میں بھی بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ مجھے یقین کامل ہے کہ میری والدہ بالکل بھی اس صفت کی نہیں ہیں ۔پہلے دینی امور میں ان سے تساہلی ہوتی تھی لیکن پچھلے کئی سالوں سے وہ پابند صوم و صلوٰۃ ہے ساتھ ہی راہ خدا میں خرچ کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں ،اپنی ضرورت کی رقم بھی راہ خدا میں بے چون و چرا دےدیتی ہیں البتہ پڑھی لکھی بالکل بھی نہیں ہیں اس پس منظر میں آپ شرعی نقطہ نظر سے میری مندرجہ ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں ۔بے حد مہربانی ہوگی
(1) آسیب زدہ کااس طرح میری والدہ کے نام لینے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے
(2)کیاکسی انسان کو انسانی جسم پر اس طرح تصرف کرنے (سوار)ہونے کی قدرت ہے یا یہ فقط توہم پرستی پر مبنی ہے ۔
(3)ان چیزوں پر یقین کرکے کسی کو برا بھلا کہنا اور اس کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کرنے والوں کے لئے حکم شرعی کیا ہے ۔
(4) خدا نخواستہ اگر اس طرح کے حالات پیدا ہوں تو اس کا مستقل علاج کیا ہے۔
فقط۔ والسلام
۔۔
صورت مسؤلہ میں نام لینے کی وجہ اور مستقل علاج تو کسی ماہر دین دار عامل سے رجوع کر کے معلوم کیا جاسکتا ہے،البتہ جہاں تک تصرف کا تعلق ہے تو یہ جنات اور جادو وغیرہ کے ذریعہ ممکن ہے،اسے محض توہم پرستی نہیں کہا جاسکتا ،تاہم اگر یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہوتا ہو کہ یہ تصرف کس نے کیا ہے،بلاوجہ کسی پر تہمت لگانا اور اسے مورد الزام ٹہرانا شرعاً درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کماقال تعالی: قُل لا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ، (65):النمل ۔)
وفی تفسیر الطبری تحت قولہ تعالی : وَحَفِظۡنَٰهَا مِن كُلِّ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٍ 17 إِلَّا مَنِ ٱسۡتَرَقَ ٱلسَّمۡعَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ مُّبِينٞ (18) ،حدَّثنا الحسن بن محمد، قال: ثنا عفان بن مسلمٍ، قال: ثنا عبد الواحدِ بنُ زيادٍ، قال ثنا الأعمش عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: تصعد الشياطين أفواجًا تَسْتَرِقُ السَّمْعَ. قال: فيَنْفَرِدُ الماردُ منها فيعلو، فيُرمى بالشهاب، فيُصِيبُ جبهتَه أو جَنبه، أو حيث شاء الله منه، فيلتهب، فيَأْتى أصحابه وهو يَلْتَهبُ، فيقولُ: إنه كان من الأمر كذا وكذا. قال: فيَذْهَبُ أولئك إلى إخوانهم من الكهنةِ، فيزيدون عليه أضعافَه من الكذبِ، فيُخبرونهم به، فإذا رأوا شيئًا مما قالوا قد كان، صدَّقوهم بما جاءوهم به من الكذبِ اھ،( تفسير سورة الحجر ،ج:17،ص:78،مط: دار التربیہ والتراث۔)
وفی ردالمحتار : والكاهن كما في مختصر النهاية للسيوطي: من يتعاطى الخبر عن الكائنات في المستقبل ويدعي معرفة الأسرار. والعراف: المنجم. وقال الخطابي: هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق والضالة ونحوهما. اهـ. والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب بالحصى، والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اهـ.،ج:4، ص: 242، مط: دارالفکر بیروت۔)
و فی النتف فی الفتاوی : قَالَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم: لَو ترك النَّاس على دَعوَاهُم لاهلك بَعضهم بَعْضًا وَلَكِن الْبَيِّنَة على الْمُدَّعِي وَالْيَمِين على من انكر،(کتاب الدعوی والبینات، ج : 2،ص : 786،مط: دار الفرقان۔)
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0