میری شادی کا یہ دسواں سال ہے، میرے الحمدللہ چار بچے ہیں، میری بیوی 10 سالوں میں اب چھٹی مرتبہ حمل کے عمل سے گزرنے لگی ہے، صرف شروعات ہوئی ہے، ایک ضائع بھی ہوا، سب سے چھوٹا بیٹا 18 مہینے کا ہے، میری بیوی اور میں مسائل کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں بھی ہیں اور میری بیوی میں کمزوری بھی بہت ہے، ابھی حمل صرف پانچ ہفتوں اور چار دن کا ہے، میں یہ حمل مزید نہیں چلانا چاہتا ہوں، ہماری نیت بھی نہیں اب۔
واضح ہو کہ بلا ضرورت اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، البتہ اگر کوئی معقول عذر ہو مثلاً عورت بہت زیادہ کمزور یا کسی دائمی مرض میں مبتلا ہو یا وضعِ حمل کے دوران عورت یا بچہ کی جان کو یقینی خطرہ ہو اور مسلمان دیندار ماہر ڈاکٹر اسقاطِ حمل کی تجویز دے تو ایسی مجبوری کی صورت میں حمل میں جان پڑنے سے پہلے پہلے (چار ماہ سے قبل) اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، لیکن چار ماہ کے بعد کسی بھی صورت میں اسقاطِ حمل جائز نہیں، بلکہ ایک معصوم جان کا ناحق قتل ہونے کی بناء پر گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی صحت کی کمزوری اور مذکور اعذار کی وجہ سے اس حمل کو برقرار رکھنے کی متحمل نہ ہو اور کوئی ماہر دیندار ڈاکٹر بھی اسقاطِ حمل کی تجویز دے تو چار ماہ سے قبل اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، لیکن اگر حمل کو چار ماہ ہو جائیں تو پھر ڈاکٹر حضرات کے مشورہ کے باوجود کسی بھی حال میں اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ ایک معصوم جان کا قتل ہو گا، جو کبیرہ گناہ ہے، لہذا اس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر: وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج (وعن أمته بغير إذنها) بلا كراهة، فإن ظهر بها حبل حل نفيه إن لم يعد قبل بول الخ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر الخ (باب نکاح الرقیق، ج: 3 ، ص: 176 ،ط: سعید)ـ