سوال: سوتیلی ماں ،اور سوتیلی ماں کے بھائی نے دو یتیم بچیوں کی شادی میں انہی کے میراث کے مال کو بے دریغ اور اپنی مرضی سے بلا ضرورت اخراجات میں خرچ کیا ،شادی کے گھر میں دو دو ماہ سے آئے ہوئے مہمانوں کے اخراجات بھی انہیں یتیم بچیوں کے مال سے ہو رہے تھے ،بچیوں نے شادی کے دوران اپنی سوتیلی ماں کو آگاہ بھی کر دیا تھا کہ اخراجات بہت ہو رہے ہیں ،یہ ہمارے مال سے استعمال نہ کیے جائیں ،لیکن اس کے باوجود ان کے مال کو بے دریغ اور اپنی مرضی سے خرچ کیا گیا ،اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ (1) یہ جو ان کے مال کو بے دریغ اور اپنی مرضی سے خرچ کیا گیا، اس کا شرعی ذمہ دار کون ہو گا ؟ خرچ کرنے والا شخص (سوتیلی ماں اور سوتیلی ماں کا بھائی) یا خود یتیم بچیاں؟ (2) کیا سوتیلی ماں کے بھائی کے لیے یتیم کے مال میں اس طرح اپنی مرضی سے شرعا ًخرچ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟(3) اگر یہ عمل ناجائز تھا تو اب خرچ کرنے والے پر کیا شرعی حکم یا ذمہ داری عائد ہو گی ،کیا وہ یہ رقم واپس کرنے کا پابند ہو گا ؟ براہِ کرم ان امور کی مکمل شرعی و ضاحت کریں ۔
واضح ہو کہ کسی کے مال میں اس کی اجازت اور دلی رضامندی کے بغیر تصرف کرنا شرعاً ناجائز ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کا بیان درست اور مبنی پر حقیقت ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور جھوٹ سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مذکور بچیوں کی شادیوں میں ان کی سوتیلی والدہ اور اسکے بھائی نے ان بچیوں کے مال کو ان کے منع کرنے کے خرچ کیا ہے ،تو جس قدر مال بچیوں کی سوتیلی والدہ اور اس کے بھائی نے بچیوں کی اجازت و رضامندی کے بغیر خرچ کیا ہو تو دونوں اس مال کے ضامن ہوں گے ،اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ غالب اندازے کے مطابق ،یا بچیوں سے صلح صفائی کا راستہ اختیار کر تے ہوئے باہمی رضامندی سے جو مقدار طے ہو جائے، اس کی ادائیگی کر کے مؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوش ہونے کی فکر کریں ۔
کما قال اللہ تعالی: یا أیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارۃ عن تراض منکم ( الآیۃ 29، سورۃ النساء )۔
وفی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النهى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النهي عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ( سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172،ط: سہیل اکیڈمی لاہور)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن ابی حرۃ الرقاشی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ (الفصل الثانی ج: 1، ص: 255، ط: قدیمی)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: تحت الحدیث (لا یحل مال امرئ) ای مسلم او ذمی إلا (بطیب نفس) أی بأمر او رضا (منہ) )ج: 6، ص: 149، ظ: حقانیۃ)۔
و فیہ أیضا: تحت الحدیث: (قال قال رجل یا رسول اللہ أی الذنب أکبر عنداللہ؟): الذنب ما یذم بہ الآتی بہ شرعاً و ھو أربعۃ اقسام (إلی قولہ ) و قسم یحتاج إلی التراد و ھو حق الأدمی و التراد إما فی الدنیا بالإستحلال أو رد العین أو بدلہ و أما فی الآخرۃ برد الثواب الظالم للمظلوم أو إیقاع سیئۃ المظلوم علی الظالم أو أنہ تعالی یرضیہ بفضلہ وکرمہ الخ (الفصل الأول ج:1، ص:218، ط: حقانیۃ)۔
و فی الدر المختار: الاجازۃ لا تلحق الاتلاف فلو اتلف مال غیرہ تعدیا فقال المالک اجزت أو رضیت لم یبرأ من الضمان الخ( کتاب الغصب ج:4،ص:198،ط: سعید)۔
و فیہ أیضا: (و یجب رد المغصوب )ما لم یتغیر تغیراً فاحشاً (فی مکان غصبہ ) و یبرأ بردھا و لو بغیر علم المالک الخ۔
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ ویجب رد عین المغصوب ) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام علی الید ما أخذت حتی ترد و لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام لا یحل لأحدکم أن یأخذ مال أخیہ لاعبا و لا جادا و إن أخذہ فلیرد علیہ الخ (کتاب الغصب ج:6،ص:182،ط:سعید)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0