السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ
ہمارا کارو بار گھروں کی نمائش وغیرہ کرنا ہے اور ہم اپنے پروڈکس کو بیچنے کے لیے تاجروں کو دیتے ہیں جو مال ہم ان کو دیتے ہیں وہ ہماری ملکیت ہوتا ہے اور یہ مال دوکانداروں کے ہاں رکھواتے ہیں جب دوکاندار کسی چیز کو بیچ دیتے ہیں تو اس کی رقم ہمیں دیتے ہیں پچھلی دفعہ مین روڈ پر ایک دوکاندار کی دوکان کو آگ لگ گئی اور ہمارے مال کو بھی آگ لگ گئی اس حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ اگر تاجر چالا کی کرے کہ اس کا بہت زیادہ نقصان ہو گیا ہے اور جو ہمارا مال اس کے پاس تھا اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتا ۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ پوری بلڈنگ اس کی ملکیت ہے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کو ادا کرے۔ کیا اس حالت میں اس کو ادائیگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟
سائل کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا مال دوکانداروں کے پاس بطور امانت رکھتا ہے اور انہیں صرف بیچنے کی حد تک اجازت ہوتی ہے ۔ پس اگر یہ مال دوکاندار کی کسی قسم کی سستی و کوتاہی کے بغیر ہلاک ہو جائے تو شرعاً وہ اس کا ضامن نہیں ہوگا۔ خواہ وہ اس کا تاوان دینے کی صلاحیت رکھتا ہو یا نہ۔
ففي الدر المختار: (فلا تضمن بالهلاك) إلا إذا كانت الوديعة بأجر أشباه معزيا للزيلعي (مطلقا) سواء أمكن التحرز أم لا، هلك معها شيء أم لا لحديث الدارقطني: «ليس على المستودع غير المغل ضمان» اھ (5/ 664)
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0بطورِ امانت دیے گئے ریال کو روپوں میں تبدیل کرنے کے بعد واپسی کس طرح کی جائیگی؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0