السلام علیکم !محترم مفتیان کرام صاحبان!گزارش عرض یہ ہے کہ میرے گھر میں ایک بچی گزشتہ کئی سالوں سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے اور ہمارے پاس ہی رہتی ہے، کچن میں کھانا پکانا اور گھر کے دیگر کام اس کی ذمہ داری ہے، اس کے والدین نے اس کی منگنی کر دی ہے اور عنقریب اس کی شادی ہونے والی ہے، اس کے والد ڈرائیور ہیں اور ماں بھی گھروں میں کام کرتی ہے، اس بچی کے علاوہ اس کی پانچ اور بہنیں بھی ہیں، ان کے مالیاتی حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ شادی کی ضروریات اور سارے اخراجات برداشت کر سکیں، میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ بچی اتنے سالوں سے ہماری خدمت کر رہی ہے لہٰذا اس کی شادی کے موقع پر ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے، اس سلسلے میں پورے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ میں نے اپنے بہنوں بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں احباب سے مدد کی درخواست کی کہ بغیر زور زبردستی کے اپنی خوشی سے اور اللہ کی رضا کیلئے اس نیک کام میں اگر کوئی بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہے تو زکوۃ کے علاوہ عطیہ یا تحفہ کی نیت سے مدد کر سکتا ہے، اس سلسلے میں مختلف لوگوں کے تعاون سے میرے پاس کچھ رقم جمع ہوئی ہے جو اس بچی کی امانت ہے، یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ یہ کوشش میں خود سے کر رہا ہوں اس کا تذکرہ ابھی تک کسی سے نہیں کیا تاکہ شادی کے موقع پر اس بچی کی مدد کی جا سکے،بچی کی شادی میں ابھی کچھ تاخیر ہے، لہٰذا آپ سے گزارش اور درخواست یہ کہ آپ مندرجہ ذیل سوالات کے شرعی طور پر جواب دے کر میری رہنمائی فرمائیں :(1)جمع شدہ رقم جو میرے پاس امانت ہے، کیا ادھار تصور کر کے اپنے استعمال میں لے سکتا ہوں،اور شادی کے موقع پر پوری رقم جس مقصد کیلئے جمع کی تھی واپس کرنے اور دینے کا پابند ہوں،(2)کیا میں یہ رقم کہیں انویسٹ کر سکتا ہوں؟(3)انویسٹ کرنے کے بعد اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کیا مجھے پوری رقم ادا کرنی ہوگی ؟(4)انویسٹ کرنے کے بعد اگر کوئی منافع ہوتا ہے تو اس صورت میں مجھے اصل رقم ادا کرنی ہوگی یا منافع میں سے بھی آدھا حصہ دینا ہوگا اس کے باوجود کہ تمام رسک اور نقصان کی ذمہ داری میری ہے۔
واضح ہو کہ کسی فرد یا مصرف میں رقم وغیرہ دینے کے لیے جب کسی کے پاس رقم جمع کی جاتی ہے تو اُس رقم کی حیثیت امانت اور اُس فرد (جس کے پاس رقم جمع کی جاتی ہے) کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے ، وہ اُس رقم کا مالک نہیں ہوتا ہے، اور نہ ہی اُسے مالکانہ حقوق و اختیارات حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں بھی سائل نے سوال میں مذکور لڑکی کو دینے کے لیے مختلف لوگوں سے جو رقم وصول کی ہے،یہ رقم بنیادی طور پر مذکور لڑکی کا ہی حق ہے، سائل کے لیے اُس رقم میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ اُس رقم میں کسی بھی قسم کا تصرف کیے بغیر اُسے مذکور لڑکی کو حوالہ کر دے ، اور اگر سائل کسی جگہ اُسے انویسٹ کرتا ہے تو یہ شرعاً ناجائز عمل ہوگا، اور ایسی صورت میں ہونے والے نقصان کی تلافی بھی سائل کے ذمہ لازم ہوگی۔
كما في الھندیۃ:وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق اھ(كتاب الوديعة،ج:٤،ص:٣٣٨،ط:ماجدية)
وفي بدائع الصنائع: ولو أنفق المودع بعض الوديعة؛ ضمن قدر ما أنفق، ولا يضمن الباقي؛ لأنه لم يوجد منه إلا إتلاف قدر ما أنفق؛ ولو رد مثله فخلطه بالباقي يضمن الكل؛ لوجود إتلاف الكل منه: النصف بالإتلاف، والنصف الباقي بالخلط؛ لكون الخلط إتلافا على بينا ولو أخذ بعض دراهم الوديعة؛ لينفقها فلم ينفقها، ثم ردها إلى موضعها بعد أيام؛ فضاعت لا ضمان عليه عندنا اھ (فصل في بيان ما يغير حال الوديعة من الأمانة إلى الضمان،ج:٦،ص:٢١٣،ط:سعيد)
وفي العناية شرح الهداية:قال (ومن غصب ألفا فاشترى بها جارية) الغاصب إذا تصرف في المغصوب أو المودع في الوديعة وربح فيه لا يطيب له الربح عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله، خلافا لأبي يوسف رحمه الله وقد مر في الدلائل. وجوابهما في الوديعة أظهر لما ذكرنا أنه لا يستند الملك إلى ما قبل التصرف لانعدام سبب الضمان، فكان التصرف في غير ملكه مطلقا فيكون الربح خبيثا، وإنما كرر الشراء في وضع المسألة تنبيها على تحقق الخبث وإن تداولته الأيدي اھ(كتاب الغصب،ج:٩،ص:٣٣٠،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط للسرخسي:ولكن التصدق بهذا لم يكن حتما عليه، ألا ترى أنه لو سلم الغلة إلى المالك مع العبد كان للمالك أن يتناول ذلك، وليس على الغاصب شيء آخر فهو بما صنع يصير مسلما إلى المالك، ثم يصير المالك مبرئا له عن ذلك القدر من القيمة بما يقبضه فيزول الخبث بهذا الطريق، فلا يلزمه التصدق بعوضه اھ (كتاب الغصب،ج:١١،ص:٧٧،ط:دارالمعرفة)
وفيه ايضاََ:وليس للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة اھ(كتاب الوديعة،ج:١١،ص:١٢٢،ط:دار المعرفة)
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0