محترم! میزان بینک جو "اسلامک ہوم فنانس" کے تحت بے گھر خاندانوں کو شراکت داری کے نظام کے ذریعے اپنا گھر خریدنے کا موقع فراہم کر رہا ہے، ان کے مطابق یہ نظام محترم ڈاکٹر محمد عمران اشرف عثمانی کی سرپرستی میں ترتیب دیا گیا ہے اور مکمل طور پر شریعت کے مطابق ہے۔ایک خاندان جو پندرہ سے بیس سال سے بے گھر ہو، کیا وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟مزید رہنمائی یہ درکار ہے کہ بینک اپنے حصے کی رقم پر پچیس سال کی مدت میں 200 فیصد منافع لیتا ہے، اور اگر پوری رقم پندرہ سال میں واپس کی جائے تو 166 فیصد منافع وصول کرتا ہے۔ کیا منافع کی یہ شرح بھی جائز ہے یا نہیں؟
ان کے مطابق یہ منافع کرایہ (Rent) اور انشورنس (Insurance) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ جزاکم اللہ خیراً!
واضح ہو کہ اسلامی بینکاری میں عموماً مکانات کی فنانسنگ کیلئے شرکت متناقصہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ، کہ جس میں بینک اور اسکا گاہک مل کر کوئی مکان خریدتے ہیں ،مثلاً قیمت کا اسی فیصد حصہ بینک اور بیس فیصد رقم گاہک دیکر اسی تناسب سے مکان کے مالک بن جاتے ہیں ،اس کے بعد بینک اپنا اسی فیصد حصہ گاہک کو کرایہ پر دیدیتا ہے،اور یہ گاہک وقفے وقفے سے مقررہ کرایہ کی ادائیگی کے ساتھ بینک کی ملکیت والے حصے کو خریدتا رہتا ہے، اور جس نسبت سے اس گاہک کی ملکیت بڑھتی ہے،اسی نسبت سےباقی ماندہ بینک کا حصہ اور اسکا کرایہ کم ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر میں جب گاہک بینک کے تمام حصے خرید لیتا ہے تو وہ مکمل طور پر مکان کا مالک بن جاتا ہے، چنانچہ مذکور طریقہ کار میں شرعاً کوئی حرج نہیں ،لہذا اگر مذکور بینک والے بھی مذکور بالا طریقے کے مطابق تمام معاملات سر انجام دیتے ہوں تو انکے " اسلامک ہوم فنانس" کے ذریعے مکان خریدنے میں شرعاً کوئی حرج نہ ہوگا۔
كما في المعايير الشرعية: المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدريجيا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله. ولا بد أن تكون شركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة، وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحد العقدين في الآخر. (الرقم: 12، ج: 1، ص: 345، ط: المكتبة الحقانية)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0