مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک سوال ہے۔ میں گورنمنٹ ملازم ہوں اور میری تنخواہ کی سلپ میں ہر مہینے ایڈوانس جی پی فنڈ (GP Fund) کی کٹوتی ہوتی ہے۔ یہ کٹوتی حکومت کی طرف سے خودکار طور پر ہو جاتی ہے۔
حکومت اس جی پی فنڈ پر کچھ سال بعد رقم واپس کرتے وقت اس پر انٹرسٹ (سود) بھی شامل کر دیتی ہے۔ جبکہ میں نے خود اس پر انٹرسٹ لگانے کی کوئی درخواست یا معاہدہ نہیں کیا، یہ حکومت کے نظام کے مطابق خود ہی شامل ہو جاتا ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں یہ انٹرسٹ سود کے حکم میں آئے گا یا نہیں؟ جبکہ اصل رقم تو میری اپنی تنخواہ سے ہر مہینے کٹتی ہے۔اور مجھے یہ رقم عموماً 3 یا 5 سال بعد نکالنے کی اجازت ہوتی ہے۔
میں چاہوں کہ انٹرسٹ فری کریں تو اس بارے اکاونٹنٹ جنرل کو لیٹر لکھنا ہوتا ہے اور ایک اسٹیمپ پیپر بھی ، لیکن پھر شاید لیٹر ان کے آفس تک پہینچ جائے یہ ہر ملازم کی بس کی بات نہیں ۔براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱) جبری (۲) اختیاری -جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے۔
اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں ،لہذا ملازم کے لیے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جور قم محکمہ بنام سود دےگا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔
لہذا اگر سائل کی تنخواہ سے کٹوتی طے شدہ نظام کے تحت جبرا ً ہو رہی ہو تو جی پی فنڈ پر اسے ملنے والی اضافی رقم سود کے زمرے میں نہیں آتی جسے شرعاً وہ بلاشبہ استعمال کر سکتا ہے۔
کما فی البحرالرائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك(کتاب الاجارۃ ج:7 ص:300 ط: دار الکتاب الاسلامی)۔
و فی بدائع الصنائع : و جملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة : دين قوي ، و دين ضعيف ، و دين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة ، و عبيد التجارة ، أو غلة مال التجارة (الی قوله) و أما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث ، أو بصنعه كما فی الوصية ، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، و بدل الخلع ، و الصلح عن القصاص ، و بدل الكتابة (الی قوله) و أما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة ، و ثمن ثياب البذلة و المهنة۔اھ (کتاب الزکوٰۃ فصل فی الشرائط التی ترجع الی المال ج:2:ص10 ط: دار الکتب العلمیۃ)-
و فیه ایضاً : (و أما) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه و شرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ و لأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض ، و التحرز عن حقيقة الربا ، و عن شبهة الربا واجب۔اھ (فصل فی شرائط رکن القرض ج:7 ص:395 ط:دار الکتب العلمیۃ)-
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0