السلام علیکم
پہلے سے موجود فتویٰ آئی ڈی: 23407 (دورانِ ملازمت جی پی فنڈ سے رقم نکلوانے پر اضافہ کے ساتھ لوٹانے کا حکم) سے ملتا جلتا مسئلہ ہے، لیکن اس میں شرط تبدیل ہے۔
شرط یہ ہے کہ ایک تو جی پی فنڈ کٹوانا لازمی ہے، لیکن منافع کے ساتھ یا بغیر منافع کے اختیار موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر منافع کے ساتھ کٹوا رہے ہیں تو جتنی بھی رقم ہمارے جی پی فنڈ اکاؤنٹ میں جمع ہے، اس پر ہر سال حکومت کی طرف سے منافع دیا جاتا ہے۔ جمع شدہ رقم کا 80٪ کسی بھی وقت نکلوایا جا سکتا ہے، لیکن واپسی پر جو اضافی رقم حکومت نے دینی ہوتی ہے، اتنی رقم ہمیں خود اپنے جی پی فنڈ اکاؤنٹ میں جمع کروانی پڑتی ہے۔
کیا یہ جائز ہے؟
صورت ِمسئولہ میں جی پی فنڈ سے بطور قرض رقم لینے کے بعد اگر واپس کی جانے والی رقم اپنے ہی جمع شددہ فنڈ میں جمع کی جاتی ہو،تو اس میں چونکہ اضافی رقم بھی اپنی ہی ملکیت میں رہتی ہے اس لیے اپنے فنڈ سے رقم لینے کے بعد اضافہ کے ساتھ واپس کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا۔
کما فی الدر المختار: الربا هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض قنية وبحر (خال عن عوض) خرج مسألة صرف الجنس بخلاف جنسه (بمعيار شرعي) وهو الكيل والوزن فليس الذرع والعد بربا(مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر فلو شرط لغيرهما فليس بربا بل بيعا فاسدا (في المعاوضة) الخ ( باب الربا ج 5 ص 170 مط: سعید )
وفی البحر الرائق: قال رحمه الله (والأجرة لا تملك بالعقد، بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد، سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة اهـ(کتاب الاجارۃ،ج:8،ص:5،مط: دار الكتاب الإسلامي)
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0