السلام علیکم مفتی صاحب،
میں کمپیوٹر سائنس کا گریجویٹ ہوں اور مجھے UBL بینک میں DevOps / IT سے متعلق ایک جاب آفر ہوئی ہے۔
اس جاب میں میرا کام ممکنہ طور پر سرورز، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سافٹ ویئر ڈیپلائمنٹ، آٹومیشن پائپ لائنز اور دیگر تکنیکی IT سسٹمز کو سنبھالنا ہوگا۔
میرا کام براہِ راست سودی معاملات، لون پروسیسنگ، انٹرسٹ کیلکولیشن، کسٹمر ڈیلنگ یا بینک کی مالی مصنوعات کی فروخت سے متعلق نہیں ہوگا۔
لیکن چونکہ یہ ایک روایتی (conventional) بینک ہے، اس لیے مجھے یہ تشویش ہے کہ آیا ایسی ملازمت کی آمدنی شرعاً جائز ہوگی یا نہیں۔
میری رہنمائی فرمائیں:
1) کیا conventional بینک کے IT / DevOps ڈیپارٹمنٹ
میں کام کرنا جائز ہے جبکہ کام صرف تکنیکی نوعیت کا ہو؟
2) کیا ایسے ادارے کو بالواسطہ تکنیکی سپورٹ فراہم کرنا ناجائز آمدنی میں شمار ہوگا؟
3) اگر کوئی شخص صرف تجربہ حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصے کے لیے ایسی نوکری کرے اور بعد میں کسی دوسری انڈسٹری میں منتقل ہو جائے تو کیا اس سے حکم میں فرق پڑتا ہے؟
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ سودی بینک کی وہ ملازمت جو براہِ راست سودی معاملات، سودی لین دین یا سود کی لکھت پڑھت سے متعلق ہو، شرعاً ناجائز ہے، جبکہ ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے براہِ راست تعلق نہ ہو، اس کی گنجائش ہے، اگرچہ بلا ضرورت سودی بینک میں ملازمت سے اجتناب بہتر ہے۔ لہٰذا اگر سائل کی UBL بینک میں ذمہ داری صرف سرورز، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سافٹ ویئر، کمپیوٹر سسٹمز، ڈیپلائمنٹ، آٹومیشن اور دیگر IT/DevOps امور کی دیکھ بھال و تکنیکی معاونت تک محدود ہو، اور اس کا براہِ راست سودی لین دین، انٹرسٹ کیلکولیشن، سودی معاملات کی پروسیسنگ یا ان کے ریکارڈ کی تیاری سے کوئی تعلق نہ ہو، تو یہ ملازمت اختیار کرنا اور اس کی تنخواہ لینا جائز ہے، محض بینک کو بالواسطہ تکنیکی معاونت فراہم کرنے سے آمدنی ناجائز نہیں ہوگی۔ اسی طرح محض تجربہ حاصل کرنے کے لیے عارضی طور پر ایسی ملازمت کرنے سے حکم تبدیل نہیں ہوگا، کیونکہ اصل اعتبار کام کی نوعیت کا ہے،تاہم بلا ضرورت سودی بینک میں ملازمت کے بجائے کسی جائز ادارے میں ملازمت اختیار کرنا بہتر اور احوط ہے۔
کما فی فقه البیوع: السابع: أن یؤجر المرأ نفسه للبنك بان یقبل فیه وظیفة، فان کانت الوظیفة تتضمن مباشرۃ العملیات الربویة، أو العملیات المحرمة الأخری، فقبول ھذہ الوظیفة حرام، وذلك مثل التعاقد بالربوا أخذا أو عطاء، أو خصم الکمبیالات، أو کتابة ھذہ العقود، أو التوقیع علیھا ۔۔۔۔۔ من کان موظفاً فی البنك بھذہ الشکل، فان راتبه الذی یاخذ من البنك کله من الأکساب المحرمة۔۔۔۔
أما اذا کانت الوظیفة لیس لھا علاقة مباشرۃ بالعملیات الربویة، مثل وظیفة الحارس أو سابق السیارۃ ۔۔۔ فلا یحرم قبولھا ان لم یکن بنیة الاعانة علی العملیات المحرمة، وان کان الاجتناب عنھا أولی، ولا یحکم فی راتبه بالحرمة۔ (التعامل مع البنوك الربوية، الباب العاشر، 1031/2، ط: معارف القرآن)
وفی احکام القرآن للتھاوی: و ھذا کله اذا کان سببا قریباً باعثاً و جالباً للمعصیة کسب الآلھة الباطلة و ضرب النساء بارجلھن و خضوعھن فی الکلام فان ھذہ کلھا اسباب جالبة للمعصیة فتعد اسبابا قریبة و اما اذا کان سببا بعیدا کبیع العصیر لمن یتخذہ خمرا او اجارۃ الدار لمن یتعاطی فیھا بالمعاصی و عبادۃ غیر الله فان لم یعلم بقصد المشتری و المستجیر، و بما یعمل فیه جاز بلا کراھة و ان علم ذالک کرہ تنزیھا فان ھذا البیع و الاجارۃ لیس سببا جالبا و باعشا للمعصیۃ کسب الآلھة و ضرب النساء بالارجل ما لم ینوا او بصرح بعمل المعصیۃ، نعم! بعد العلم بما یعمل لا یخلو عن شئ من التسبب للمعصیة و لو بعیداً فکان التنزہ عنه اولی۔ (81/3)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0