کیا حدیث میں کسی کے منہ پر تعریف کرنے سے منع فرمایا گیا ہے؟ تو کیا کسی کے بنائے ہوئے کھانے یا اس کے کام کی تعریف اسکے سامنے کر سکتے ہیں ؟ یا نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث ہے ؟ تو وضاحت کیساتھ بیان فرمائیں ۔
واضح ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض احادیث میں کسی کے منہ پر تعریف سے منع فرمایا ہے تا کہ ممدوح فخر و تکبر میں مبتلا نہ ہو مگر جہاں یہ شائبہ نہ ہو یا کسی کی دلجوئی ، ہمت افزائی مقصود ہو تو وہاں تعریف کرنے میں حرج نہیں،بلکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے اور عام گھروں میں یا کسی کی دعوت پر کھانے کی تعریف محض اس بناء پر ہوتی ہے تاکہ میزبان مطمئن ہو جائے اور اسکی دلجوئی ہو ۔
کما فی سنن ابن ماجه: عن معاوية قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إياكم والتمادح فإنه الذبح»(2/ 1232)
و فیہ ایضاً: عن المقداد بن عمرو قال: «أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نحثو في وجوه المداحين التراب»(2/ 1232)
و فی حاشیتہ: قال النووی فی ھذا الباب الاحادیث الواردۃ فی النھی عن المدح و قد جاءت احادیث کثیرۃ فی الصحیحین بالمدح فی الوجہ قال العلماء طریق الجمع بینھما ان النھی محمول علی المجازفہ فی المدح و الزیادۃ فی الاوصاف او علی من یخاف علیہ فتنہ من اعجاب و نحوہ اذا سمع المدح و اما من لایخاف علیہ ذلک لکمال تقواہ و رسوخ عقلہ و معرفتہ فلا نھی فی مدح فی وجھہ اذالم یکن فیہ مجازفہ(1/265)