کیا بہو (بیٹے کی بیوی) اپنے سسر کی جسمانی خدمت، مثلاً ہاتھوں اور پنڈلیوں کی مالش (دبانا)، کر سکتی ہے؟
جزاکم اللہ خیراً.
بہو اور سسر کا آپس میں محرم كا رشتہ ہے، اس لیے اصولی طور پر ان کے درمیان وہ احکام جاری نہیں ہوتے جو اجنبی مرد و عورت کے ہیں۔ تاہم شریعت نے حیا، وقار اور فتنہ سے بچنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔
لہٰذا سسر کی خدمت، تیمارداری، دوا دینا، کھانا پیش کرنا اور ضرورت کے وقت دیکھ بھال کرنا جائز ہے، لیکن ہاتھوں، بازوؤں، پنڈلیوں یا جسم کی مالش کرنےمیں چونکہ فتنہ میں مبتلاہونےکااندیشہ موجود ہے،جس سے حرمت مصاہرت کے سبب میاں ،بیوی کارشتہ کاختم ہوسکتاہے،اس لیے بہوکوسسرکی اس طرح خدمت کرنے سے اجتناب چاہیے۔
البتہ اگر سسر شدید بیمار، معذور یا بے سہارا ہوں اور خدمت کے لیے کوئی دوسرا مرد موجود نہ ہو، اور واقعی ضرورت پیش آ جائے، توشرعی آداب کوملحوظ رکھتے ہوئے بقدرِ ضرورت خدمت کی گنجائش ہوگی،بشرطیکہ فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔
کمافي «حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» : (قوله والصهرة الشابة) قال في القنية: ماتت عن زوج وأم فلهما أن يسكنا في دار واحدة إذا لم يخافا الفتنة وإن كانت الصهرة شابة، فللجيران أن يمنعوها منه إذا خافوا عليهما الفتنة اهـ(6/ 369)
وفي «الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : «ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت»(1/ 275)