کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داماد کا انتقال ہوچکا ہے جس کو تقریباً ایک سال کا عرصہ گزرچکا ہے ۔اب میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر لیکر آیا ہوں ۔اب مسئلہ بچوں کا ہے ۔میری بیٹی کی تین بچے ہیں لڑکا تقریبا ًتین سال ،لڑکی تقریبا ًساڑھے چھ سال کی ہے جبکہ چھوٹی بیٹی سات مہینے کی ہے ۔میری بیٹی دوسرا نکاح بھی نہیں کرنا چاہتی ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ بچوں کی پرورش اور اخراجات وغیرہ کی ذمہ داری کس کی ہے ؟ والدہ،دادا،دادی،نانا،نانی وغیرہ جو بھی شرعی حکم ہوآگاہی فرمائیں.
صورت مسؤلہ میں بچے کی عمر سات سال ہونے اور بچیوں کی عمریں نو سال ہوجانے تک ان کی پرورش کی حقدار ان بچوں کی ماں ہے بشرطیکہ اس دوران وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے جبکہ سائل کے داماد نے اگر ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے تو بیوہ اور بچوں کے حصص میراث وصول کرکے بچوں کے اخراجات اعتدال کے ساتھ ان کے حصص میراث سے کئے جائیں اور اگر مرحوم نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تو بچے کے بالغ(کام کاج کے قابل ) ہونے تک اور بچیوں کی شادیاں ہوجانے تک ان کا نان نفقہ اور اخراجات ماں اور دادا کے ذمہ ایک تہائی دو تہائی کے تناسب سے مشترکہ طور پر لازم ہونگے ۔ایک تہائی ماں جبکہ دو تہائی دادا ادا کرےگا۔
وفى المحيط البرهاني:فإن مات الأب فالنفقة على الجد؛ لأنه قائم مقام الأب فإن كان للصغير أم وجد فالنفقة على الأم والجد على قدر ميراثهما أثلاثاً بخلاف الأب في «ظاهر الرواية» .(ج:3،ص:582،ط:دارالکتب العلمیة)
وفی الهندية:«والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.(الباب السادس عشر فى الحضانة، ج:1،ص:542)