کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ الف کی بیٹی کا نکاح ب کے بیٹے کے ساتھ ہوگیا، نکاح کے بعد الف کی بیٹی نے ناچاقی شروع کی ، حالات کی کشیدگی کی وجہ سے ب کے بیٹے نے اپنی بیوی کو طلاق دیکر حق زوجیت سے آزاد کردیا ،دو لاکھ خلع لیکر اس شرط پر کہ وضع حمل کی صورت میں جو بچہ پیدا ہوگا فوراً بچہ والد کو حوالہ کر کے دیگا ابھی بچی پیدا ہوگئی ہے ، یہ بچی ماں کی یا باپ کی ہے، اگر باپ کی ہے ماں اس بچی کو باپ کی اجازت رضامندی کے بغیر کتنی مدت تک رکھ سکتی ہے، کیا اس کا خرچہ ماں کے اوپر ہوگا یا باپ کے اوپر ، اگر خرچہ ہے تو کتناہے، اور کتنی مدت تک ہے؟
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جانے کی صورت میں بچی کی عمر (9) سال مکمل ہونے تک اسکی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے ،بشرطیکہ اس دوران اس بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرلے، یا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے ، ورنہ پھر اس بچی کی نانی کو حق پرورش حاصل ہوجائیگا ،اگر نانی نہ ہو تو پھر اس کی دادی ،خالہ، اور پھوپھی، کو بالترتیب حق پرورش حاصل ہوگا، جبکہ مذکور مدت کے بعد باپ اس بچی کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے ،جبکہ دوران پرورش اس بچی کے اخراجات ، باپ پر لازم ہونگے ،تاہم ماں باپ دونوں کو چاہیے کہ بچی کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم سے اس کی نگہبانی اور پرورش کی ذمہ داری کا فیصلہ کرلیں، تاکہ بچی کی تربیت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں ۔
کما فی الدرالمختار: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى (الیٰ قولہ) (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي.( باب الحضانۃ، ج:3 ،ص:566 ، ناشر: سعید)
وفی بدائع الصنائع: وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك. وأما الجارية فهي أحق بها حتى تحيض كذا ذكر في ظاهر الرواية وحكى هشام عن محمد حتى تبلغ أو تشتهي (فصل فی وقت الحضانۃ، ج: 4، ص: 42، ناشر: دارالکتب الاسلامیۃ)